Loading
تہران: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو ’سانپ‘ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے امریکا کو ایران کے خلاف جنگ میں دھوکا دے کر دھکیلا۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں کہا کہ نیتن یاہو نے عبرانی زبان میں مبینہ طور پر اس بات کا اظہار کیا ہے کہ انہوں نے امریکی انتظامیہ کو ایران کے خلاف جنگ پر آمادہ کیا۔
عراقچی کے مطابق نیتن یاہو نے امریکی میڈیا پر تقریباً ایک ہزار گھنٹے کی موجودگی کے ذریعے امریکی رائے عامہ اور انتظامیہ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔ ایرانی وزیر خارجہ نے دعویٰ کیا کہ نیتن یاہو نے امریکا کو ایران کے خلاف کارروائی کی طرف مائل کیا۔
عباس عراقچی نے کہا کہ نیتن یاہو ایک طرف امریکی صدر کی قیادت کی تعریف کرتے ہیں، جبکہ دوسری جانب ایرانی مؤقف کے مطابق وہ امریکی پالیسی پر اپنے اثر و رسوخ کا ذکر کرتے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے اسی تناظر میں نیتن یاہو کو ’سانپ‘ قرار دیا اور ان پر امریکا کو ایران کے خلاف جنگ میں شامل کرنے کا الزام عائد کیا۔
ایرانی وزیر خارجہ کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان فوجی کشیدگی جاری ہے اور اسرائیل بھی اس تنازع میں اہم فریق ہے۔ تہران مسلسل امریکا اور اسرائیل پر خطے میں فوجی کارروائیوں اور کشیدگی بڑھانے کا الزام عائد کرتا رہا ہے۔
In Hebrew, Netanyahu openly crows that he suckered the U.S. Administration into a war on Iran on behalf of Israel.
Netanyahu explicitly laughs about how he "influenced" America through 1,000 hours of airtime on U.S. networks.
In English, he praises POTUS' leadership.
Serpent. https://t.co/O2hXExS91M
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) August 31, 2026
دوسری جانب اسرائیلی حکومت کی جانب سے عراقچی کے تازہ بیان پر فوری ردعمل سامنے آنے کی اطلاع نہیں ہے۔ نیتن یاہو اور امریکی حکومت ایران کے معاملے پر اپنے اقدامات کو قومی اور سکیورٹی مفادات کے تناظر میں بیان کرتے رہے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل