Loading
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ پورے ملک میں جماعت اسلامی کی تحریک جاری ہے، یہ تحریک پورے گلی محلوں کی سطح پر آگے بڑھ رہی ہے، کل 3 ستمبر کو پورے ملک میں ہڑتال ہوگی، کارکنان مارکیٹوں میں رابطے کررہے ہیں، کل تمام تاجروں کی مارکیٹوں کے صدور نے ہڑتال کی حمایت کی ہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جس چیز کے بارے میں لوگوں کو شعور نہیں تھا، ہم نے آگاہی دی۔ پاکستان میں 5 ملین گاڑیاں ہیں جو چلتی ہیں، موٹر سائیکل لاکھوں میں ہیں، ایسے لوگوں پر حکومت نے لیوی بھتہ نافذ کیا ہوا ہے۔ ایک طالب علم پیٹرول ڈلوائے اور اس سے 35 فیصد ٹیکس وصول کیا جائے، کتنی بڑی زیادتی ہے۔ بجلی میں کیپسٹی پیمنٹس اور فکسڈ چارجز ہیں، 1700 ارب روپے سے زائد چند آئی پی پیز کو ادا کیے گئے جو بجلی ہم نے استعمال نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ حکمران طبقے کی عیاشیوں پر اربوں روپے خرچ کررہے ہیں، غریب لوگوں کا ٹیکس فری نہیں کرتے لیکن چینی مافیا کے لیے ٹیکس صفر کردیا۔ جماعت اسلامی کی تحریک میں تمام اپوزیشن پارٹیاں ساتھ دیں۔ کل پورے ملک میں ہڑتال ہوگی، آئندہ کا لائحہ عمل کا اعلان کرونگا، دھرنوں کو مزید پھیلا بھی سکتے ہیں۔ ہم پرامن لوگ ہیں اور یہی چاہتے ہیں حکومت پاکستانیوں کی زندگی آسان کرے، بھتہ لیوی کو ہر صورت میں ختم کرو۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ دھرنے کا اثر ہے، یہی حکومت بات تو کرنے آئی۔ ہمیں لوگ سراہا رہے ہیں، میڈیا کی اپنی پالیسی ہے وہ کس دھرنے کوور کرتے ہیں۔ بڑے بڑے دانشور ان 18 دنوں میں یہ مہنگائی لیوی نظر نہیں آئی۔ بیرون ملک مقیم کچھ لوگ ہیں جو نظریہ بیچتے ہیں، انہیں جماعت اسلامی سے پریشانی ہے۔ 32 روپے ڈیزل کی قیمت میں کمی اسی دھرنے کے باعث ہوئی، آج 16 روپے بجلی کی قیمت کم ہوئی ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ہم کراچی میں 15 سال لڑتے رہے ہیں۔ انتظامی یونٹس کے حوالے سے آئین میں جو بھی چیز ہے اس کے مطابق کریں، عوام کی رائے کے مطابق کریں۔ 7 سیٹیں پیپلز پارٹی کو دی گئیں، بلاول صاحب فارم تو لے آئیں۔ پوری کی پوری پی ڈی ایم کو دیکھیں، یہ سارے فارم 47 والے ہیں۔ پنجاب اسمبلی نے صوبوں کے حوالے سے آئین کے مطابق قرارداد منظور کی ہوئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سندھی مہاجر تقسیم پیدا نہ کریں، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نورا کشتی نہ کریں۔ اگر میں پیپلز پارٹی کے ساتھ ہوتا تو میں میئر کراچی ہوتا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل