Loading
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے خیبرپختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں مسجد پر خودکش دہشتگرد حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حملے کے ذمہ داروں، منصوبہ سازوں، مالی معاونت کرنے والوں اور سہولت کاروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے پر زور دیا ہے۔
سلامتی کونسل کے صدر اور فرانس کے نمائندے جیروم بونافون کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 18 ستمبر 2026 کو کوہاٹ میں مسجد پر ہونے والا خودکش حملہ انتہائی سنگین اور بزدلانہ دہشتگرد کارروائی تھی۔
بیان کے مطابق حملے میں کم از کم 24 پاکستانی شہری شہید ہوئے جن میں 7 عام شہری اور 17 قانون نافذ کرنے والے اہلکار شامل تھے جبکہ کم از کم 88 افراد زخمی ہوئے۔ دہشتگرد گروہ، جس میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے منسلک عناصر بھی شامل ہیں نے حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
سلامتی کونسل کے ارکان نے حملے میں جاں بحق افراد کے اہل خانہ، حکومت پاکستان اور پاکستانی عوام سے گہری ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا جبکہ زخمیوں کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
سلامتی کونسل نے اس امر کی توثیق کی کہ دہشتگردی اپنی تمام شکلوں اور مظاہر میں بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے سنگین ترین خطرات میں سے ایک ہے۔
ارکان نے زور دیا کہ دہشتگردی کی اس قابل مذمت کارروائی کے مرتکبین، منصوبہ سازوں، مالی معاونین اور سرپرستوں کو جواب دہ بنایا جائے اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
سلامتی کونسل نے تمام ممالک پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے تحت اس معاملے میں حکومت پاکستان کے ساتھ فعال تعاون کریں۔
بیان میں ایک بار پھر واضح کیا گیا کہ دہشتگردی کی کوئی بھی کارروائی مجرمانہ اور ناقابل جواز ہے، خواہ اس کا مقصد یا محرک کچھ بھی ہو، اسے کہیں بھی، کسی بھی وقت اور کسی کی جانب سے انجام دیا جائے۔
سلامتی کونسل نے تمام ریاستوں کی جانب سے اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں، بشمول انسانی حقوق، پناہ گزینوں اور بین الاقوامی انسانی قانون کی پاسداری کرتے ہوئے دہشتگرد کارروائیوں سے پیدا ہونے والے عالمی امن و سلامتی کے خطرات کا ہر ممکن طریقے سے مقابلہ کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل