Saturday, September 05, 2026
 

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ کے حوالے سے اجلاس

 



وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ کے حوالے سے اجلاس ہوا، وزیراعظم نے ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ اور ایکسپورٹ امپورٹ بینک آف پاکستان (EXIM Bank of Pakistan) کی جانب سے بالخصوص چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (SMEs) کے لیے برآمدی انشورنس کوریج فراہم کرنے کا خیرمقدم کیا۔ وزیر اعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ 3 ارب روپے کا رسک پول (Risk Pool) بالخصوص چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (SMEs) کے لیے ایکسپورٹ کریڈٹ انشورنس تک رسائی کو وسعت دیتا ہے، اس فیصلے سے کاروباری برادری کو برآمدات کا حجم بڑھانے میں سہولت ملے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے فروغ کے لیے یہ انتہائی خوش آئند اقدام ہے، وزیراعظم نے ملکی معیشت کو تقویت دینے کے لیے اصلاحات پر ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ کی ٹیم کی پزیرائی کی اور کہا کہ تنظیم نو اور اصلاحات کے بعد ای ڈی ایف کی قیادت نجی شعبے کے ماہرین کے سپرد کر دی گئی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ای ڈی ایف کے پاس موجود تمام سرمایہ کاروباری برادری کی سہولت کے لیے بروئے کار لایا جا رہا ہے، یہ اقدامات حکومت پاکستان کے ملکی معیشت کو فروغ دینے اور برآمدات میں اضافے کے عزم کے عکاس ہیں، ان اقدامات کے ذریعے پاکستان عالمی سطح پر سرمایہ کاری کا مرکز بنے گا، یہ تمام اقدامات برآمدات پر مبنی معیشت کو فروغ دینے کے عزم کی تکمیل کے لیے لیے جا رہے ہیں۔ اجلاس میں وزیراعظم کو ای ڈی ایف کی تنظیم نو اور اصلاحات کے حوالے سے بریفنگ دی گئی جس میں بتایا گیا کہ  ڈی ایف کے پاس موجود 24 ارب روپے مکمل طور پر کاروباری برادری کی سہولت کے لیے سرمایہ کاری کے لیے مختص کر دیے گئے ہیں، مزید انفراسٹرکچر کی مد میں کسی قسم کا خرچہ نہیں کیا جائے گا۔ بریفنگ میں کہا گیا کہ ای ڈی ایف میں ملکی معیشت کی ترقی اور کاروباری برادری کی سہولت کے لیے تحقیق، اسکلز ڈویلپمنٹ اور مسابقت میں اضافے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں، پاکستان کی یورپی مارکیٹ تک رسائی کے لیے خصوصی مراعاتی تجارتی نظام (GSP Plus Status) میں توسیع کے حوالے سے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزراء محمد اورنگزیب، رانا تنویر حسین، جام کمال خان، احد خان چیمہ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، وزیراعظم کے مشیر ہارون اختر، ای ڈی ایف بورڈ کے چیئرمین عمر سعید اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل