Monday, September 07, 2026
 

مکہ پیکٹ پر ایک مذاکرہ

 



مکہ پیکٹ کیا ہے اور یہ کیسے مسلم دنیا کے مقدر کو بام عروج پر پہنچا سکتا ہے؟ اس موضوع پر ایک تفصیلی مذاکرے میں استاد گرامی مرحوم و مغفور پروفیسر سید متین الرحمن مرتضیٰ کی یاد بڑی شدت سے آئی۔ ہم طلبہ ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور درخواست کی کہ ہمیں ایک تقریب جامعہ سے باہر کسی ہوٹل میں برپا کرنے کی اجازت دیں۔ استاد گرامی مکالمے پر یقین رکھتے تھے۔ بعض انتظامی سربراہوں کی طرح ماتھے پر تیوری ڈال کر ہاں یا نہ کہہ کر بات نمٹا نہیں دیا کرتے تھے۔ ہماری درخواست انھوں نے شفقت سے سنی ۔ غفور بابا کو چائے کے لیے روانہ کرنے کے بعد کہا کہ میں ایک سوال تم سے پوچھنا چاہتا ہوں:           'یہ بتا ؤکہ یونیورسٹی کیا ہوتی ہے؟' متین صاحب جب اس قسم کے سوال کرتے تو اس کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ یہ کسی اہم بات کی تمہید ہے۔لہٰذاسوالیہ نگاہیں ان کی طرف مرکوز کیے ہم خاموش بیٹھے رہے۔ استاد گرامی نے افتتاحی جملے کے بعد ایک نگاہ ہم پر ڈالی اور کہا کہ یونیورسٹی جیسے تعلیم کے اعلیٰ ادارے کو یونیورسٹی اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ ایک علیحدہ دنیا ہوتی ہے یعنی یونیورس۔ یہ نام اس حکمت کے تحت اختیار کیا گیا کہ یہ شہروں کی آپا دھاپی سے الگ دنیا ہوتی ہے۔ الگ اس لیے ہوتی ہے کہ یہ شہروں کی ثقافت کو قبول نہیں کرتی بلکہ شہروں کو ایک ایسی ثقافت فراہم کرتی ہے جس کی بنیاد علم پر ہوتی ہے۔ یونیورسٹیوں کی دوسری ذمے داری یہ ہے کہ وہ قوموں کی تعمیر اور ترقی کے لیے فکری غذا فراہم کرتی ہیں۔ گزشتہ ہفتے بالکل یہی سرگرمی کچھ جامعات میں دیکھنے کو ملی خاص طور پر یونیورسٹی آف لاہور میں۔ یونیورسٹی آف لاہور میں گزشتہ ہفتے مکہ پیکٹ پر ایک بھرپور مکالمہ ہوا جس میں حکومت، حزب اختلاف، دانش وروں، سفارت کاروں، مسلح افواج کے ریٹائرڈ افسروں اور تاجروں سمیت زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے گفتگو کی۔ یہ مکالمہ دیکھ کر سمجھ میں آئی کہ استاد گرامی نے کیا فرمایا تھا اور یہ کہ یونیورسٹی کیسی ہونی چاہیے۔ یونیورسٹی آف لاہور کے بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین اویس رؤف اور منیر احمد خان نے اپنے رفقا کے تعاون سے ہمیں وہ کر دکھایا جس کا تصور زمانہ طالب علمی میں دل و جان کا حصہ تو بن چکا تھا لیکن اسے مجسم دیکھنے کی حسرت تھی۔ مکہ پیکٹ پر مذاکرے میں اہل سیاست و دانش کی بڑی تعداد نے شرکت کی جن میں وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال، سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری، استاذ الاساتذہ مجیب الرحمن شامی، جلیل عباس جیلانی، اعزاز چودہری، علامہ طاہر اشرفی، سہیل وڑائچ، ترکیہ سے پروفیسر ڈاکٹر خلیل طوقار، پروفیسر ڈاکٹر سردار دیمرل، جنرل غلام مصطفی، جنرل ناصر جنجوعہ، ایئر کموڈور خالد چشتی اور برادر عزیز فرخ شہباز وڑائچ سمیت بہت سے اہل دانش نے گفتگو کی۔ مذاکرے کی دونوں نشستوں کی میزبانی برادر عزیز اجمل جامی نے کی۔ انھوں نے یہ ذمے داری بڑے سلیقے سے نبھائی۔ یوں قومی اور بین الاقوامی امور پر ان کی دسترس کا اندازہ ہوا۔ شرکائے مذاکرہ نے عام طور پر عسکری اور سفارتی پہلوں پر اظہار خیال کیا جب کہ محترم مجیب الرحمن شامی نے بحث کو سمیٹتے ہوئے ایک خاص جملہ کہا۔ انھوں نے فرمایا کہ سفارتی تاریخ میں مکہ پیکٹ ایک خاص انفرادیت رکھتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی قوت یہ ہے کہ اس معاہدے کی حمایت مسلم دنیا کے گلی کوچوں میں پائی جاتی ہے یعنی یہ معاہدہ مسلمانوں کی خواہشات کی عملی تعبیر ہے۔ میری گفتگو کا محور بھی یہی پہلو تھا۔ میں نے عرض کیا کہ پہلی جنگ عظیم سے مسلمانوں کے زوال کی ابتدا ہوئی۔ سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ ہوا اور مسلمانوں کی عظیم سیاسی قوت چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں یعنی ملکوں میں بٹ گئی۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا دو مختلف گروپوں میں بٹ گئی۔ ایک گروپ امریکا کے زیر اثر آگیا اور دوسرا سوویت یونین کے۔ یہ ایسی صورت حال تھی جس میں تیسری دنیا کے ملکوں کا داخلی اقتدار اعلی تک محدود ہو گیا۔ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد دنیا کی قطبی ہو گئی یعنی صرف امریکا کی اجارہ داری قائم ہو گئی جس کے نتیجے میں نائن الیون جیسے عظیم حادثے رونما ہوئے جن کی وجہ سے مسلمان دنیا میں تنہائی کا شکار ہو گئے۔ کہا گیا کہ یہ غیر مہذب اور دہشت گرد ہیں جن سے امن عالم خطرے میں ہے۔ گزشتہ ایک سو آٹھ برس کے دوران میں دنیا اور خاص طور پر مسلم دنیا جس صورت حال سے دوچار ہوئی، اس کا اندازہ مسلم مفکرین کو پہلی جنگ عظیم کے دوران ہی ہونے لگا تھا جن میں علامہ محمد اقبال اور سید جمال الدین افغانی خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ان بزرگوں کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے عالمی مرکز کی ضرورت اسی زمانے میں ہی محسوس کی جانے لگی تھی۔ اقبال نے تہران کو عالم مشرق کا جنیوا بنانے کی خواہش کا اظہار کیا تو اس کا مطلب یہی تھا۔ اسی طرح انھوں نے حرم کی پاسبانی کے لیے مسلمانوں کے اتحاد کا تصور بھی پیش کیا تھا یعنی   ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے نیل کے ساحل سے لے کر تا بہ خاک کاشغر اس شعر میں حرم کا مطلب حرمین شریفین تو ہے ہی لیکن مسلمانوں کی عزت و حرمت اور اُن کا قتدار اعلیٰ بھی ہے۔ میں نے عرض کیا کہ مکہ پیکٹ کے پس پشت وہ تاریخی اور سیاسی عوامل کار فرما ہیں جن کی ابتدا پہلی جنگ عظیم سے ہوئی۔ مکہ پیکٹ مسلمانوں کے ایک صدی قدیم خواب کی تعبیر کی جانب پہلا قدم ہے، منزل نہیں ہے   ع چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل