Tuesday, September 08, 2026
 

ایران امریکا جنگ طول پکڑنے لگی، تیل کی قیمتیں 100 ڈالر کے قریب پہنچ گئیں

 



لندن: مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے درمیان جنگ طول پکڑنے کے خدشات کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ طویل جنگ سے خلیج سے تیل کی سپلائی مسلسل متاثر ہوسکتی ہے۔ رائٹرز کے مطابق منگل کو برینٹ خام تیل کی قیمت 34 سینٹ اضافے کے بعد 97.34 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ  1.15 ڈالر اضافے کے بعد 92.63 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔ برینٹ گزشتہ روز 24 جولائی کے بعد بلند ترین سطح پر بھی پہنچا تھا۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز کے گرد بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی سپلائی میں ممکنہ رکاوٹ کے خدشات ہیں۔ یہ سمندری راستہ عالمی خام تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم ہے، اس لیے یہاں طویل رکاوٹ عالمی منڈی پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔ توانائی کے تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی طویل عرصے تک جاری رہی تو خلیج فارس سے تیل کی سپلائی 2026 کے اختتام تک محدود رہ سکتی ہے۔ ایک تجزیے میں جنگ سے پہلے کی معمول کی سپلائی مکمل طور پر بحال ہونے میں 2027 کی پہلی سہ ماہی کے آخر یا دوسری سہ ماہی کے آغاز تک وقت لگنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ حالیہ کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں کی آمدورفت بھی متاثر ہوئی ہے، جس سے عالمی توانائی کی منڈی میں سپلائی کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل