Loading
سربراہ جمعیت علماء اسلام مولانا فضل الرحمن نے ملک میں صوبوں کی تقسیم کی بحث پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج ملک میں آگ لگی ہوئی ہے اور تم صوبوں کی تقسیم کی بات کررہے ہو جو بھائی گھر جلتا دیکھے اور اسے تقسیم کرنے کی بات کرے اس سے زیادہ بیوقوف کوئی نہیں ہوسکتا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام سالانہ تحفظ ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ عوام ہیں تو ریاست ہے عوام کے بغیر ریاست کا کوئی تصور نہیں، صوبے بنتے رہتے ہیں لیکن وقت اور حالات کو بھی سامنے رکھنا چاہیے، 6 ستمبر یومِ دفاع اور 7 ستمبر یومِ الفتح ہے 6 ستمبر ہماری جغرافیائی حدود کے تحفظ جبکہ 7 ستمبر نظریاتی حدود کے تحفظ کی علامت ہے ہمیں پاکستان کی جغرافیائی اور نظریاتی دونوں سرحدوں کے تحفظ کو ملحوظ رکھنا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ ریاست ماں ہوتی ہے جو قوم کو جوڑتی ہے لیکن آج ریاست تقسیم در تقسیم کی طرف جا رہی ہے، لڑاؤ اور حکومت کرو کی پالیسی اختیار کی جا رہی ہے، جابرانہ سیاست اور طاقت کے زور پر عوام پر حکمرانی کا سلسلہ مزید نہیں چل سکتا ایک وقت میں مدارس کی تنظیموں کی تعداد پر اعتراض کیا جاتا تھا مگر آج مزید تقسیم پیدا کی جا رہی ہے، 7 ستمبر 1974ء کو قادیانیت کو مسلمانوں کی فہرست سے نکال کر غیر مسلم اقلیت قرار دینا معمولی معرکہ نہیں تھا یہ ہمارے اکابر کی قربانیوں اور جدوجہد کا نتیجہ تھا آج بھی پوری قوم پارلیمنٹ کے اس تاریخی فیصلے کے ساتھ کھڑی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کوایک عادلانہ نظام کی ضرورت ہے، آمریت اور غیر جمہوری فیصلوں نے ملک کو سیاسی نظریاتی اور اقتصادی طور پر کمزور کیا، ڈکٹیٹروں کے فیصلوں کے نتیجے میں ملک کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا اور بالآخر پاکستان دولخت ہوا۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں فرقہ واریت، قومیت، علاقائیت اور لسانیت کو فروغ دیا گیا نفرتیں پھیلائی گئیں جس سے بیرونی قوتوں کو پاکستان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کا موقع ملا، اقتصادی طور پر بھی ملک کو عالمی مالیاتی اداروں کا پابند بنا دیا گیا ہے اور ہمارے معاشی فیصلوں پر بیرونی اداروں کا اثر بڑھتا جارہا ہے، روشن خیال مغرب کے پسندیدہ عناصر نے ماضی میں ناموسِ رسالت ﷺ کے قانون کےخلاف بھی آوازیں بلند کیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر اس ملک میں مسلمان قادیانیت کے فتنے کو قبول نہیں کرتے تو کسی کو بھی مسلمانوں پر اپنی مرضی مسلط کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، طاقت کی بنیاد پر مسلط ہونے والی سیاست نہیں چلے گی، پاکستان کی طاقت کا اصل سرچشمہ اس کے عوام ہیں ملک کو امن مضبوط معیشت عادلانہ نظام اور قومی یکجہتی کی ضرورت ہے موجودہ حالات میں قوم کو مزید تقسیم کرنے کے بجائے اتحاد و اتفاق کو فروغ دینا ہوگا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل