Loading
برطانیہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم اسرائیلی بستیوں کے خلاف پابندیوں کا اعلان کردیا جس پر اسرائیل نے شدید ردعمل دیتے ہوئے برطانوی قونصل خانہ بند کرنے سمیت متعدد جوابی اقدامات کا اعلان کردیا۔
برطانوی وزیر خارجہ کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی قبضہ اور غیر قانونی بستیوں کی توسیع برطانوی حکومت کے نزدیک غیر قانونی ہے۔
برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے اسرائیلی آبادکاروں پر فلسطینیوں کی ’’نسلی تطہیر‘‘ کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی حکومت اکثر ان اقدامات پر آنکھیں بند کیے رکھتی ہے۔
وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے پارلیمنٹ میں اعلان کیا کہ برطانیہ مغربی کنارے کی اسرائیلی بستیوں سے آنے والی اشیا پر پابندی عائد کرے گا، جبکہ بستیوں کی توسیع میں خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں اور افراد کو بھی پابندیوں کا سامنا کرنا ہوگا۔
ملی بینڈ نے واضح کیا کہ آئندہ 6 سے 9 ماہ کے دوران ایک جامع پابندیوں کا نظام متعارف کرایا جائے گا جبکہ برطانیہ میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی تشہیر پر بھی پابندی ہوگی۔ پابندیوں کا ہدف اسرائیل نہیں بلکہ غیر قانونی بستیوں اور ان کی توسیع ہے۔
برطانیہ کی جانب سے پابندیوں کا اعلان اسرائیل کے مغربی کنارے کے علاقے E1 میں تقریباً 1,200 نئے مکانات کی تعمیر کے منصوبے کے بعد سامنے آیا ہے۔ برطانیہ کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے فلسطینی ریاست کے قیام پر مبنی دو ریاستی حل ناقابلِ عمل ہوسکتا ہے۔
ادھر برطانوی وزیر خارجہ نے غزہ میں جنگی جرائم کے امکانات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ایسے الزامات کا فیصلہ بین الاقوامی قانونی عمل کے ذریعے ہونا چاہیے۔ اسرائیلی قیادت نسل کشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات کو مسلسل مسترد کرتی رہی ہے۔
برطانوی اقدام پر اسرائیل نے سخت ردعمل دیا ہے۔ اسرائیلی وزیر خارجہ گیدیون ساعر نے مشرقی یروشلم میں برطانوی قونصل خانہ بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے برطانوی حکومت پر اسرائیل کے خلاف معاندانہ پالیسی اختیار کرنے کا الزام عائد کیا۔
اسرائیل نے 11 برطانوی ارکان پارلیمنٹ کے ملک میں داخلے پر بھی پابندی عائد کردی ہے جن میں جیریمی کوربن، ڈائین ایبٹ اور گرین پارٹی کے پانچ موجودہ ارکان بھی شامل ہیں۔ اسرائیلی وزیر خارجہ نے ان ارکان پر اسرائیل مخالف سرگرمیوں کے الزامات عائد کیے۔
برطانیہ، فرانس، کینیڈا، اسپین، ناروے، سویڈن، آئرلینڈ، پولینڈ اور دیگر ممالک نے بھی مغربی کنارے کی اسرائیلی بستیوں کے خلاف اقدامات کی حمایت کی ہے۔ ان ممالک نے دو ریاستی حل کے تحفظ کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے بھی برطانوی فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پابندیاں مسئلے کا حل نہیں، جبکہ فلسطینی صدر نے برطانیہ کے اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے فلسطینیوں کے حقوق کے لیے اہم قدم قرار دیا۔
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکا برطانیہ کے اس اقدام کی پیروی نہیں کرے گا، جبکہ اسرائیل میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سفیر مائیک ہکابی نے خبردار کیا کہ امریکا ممکنہ طور پر برطانوی کاروباری اداروں کے خلاف اقدامات کرسکتا ہے۔
واضح رہے کہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کا معاملہ طویل عرصے سے عالمی تنازع کا مرکز ہے۔ 1967 کی جنگ کے بعد اسرائیل نے مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں تقریباً 160 بستیاں قائم کی ہیں، جہاں تقریباً 7 لاکھ اسرائیلی آباد ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل