Tuesday, September 08, 2026
 

نیویارک کے پہلے مسلم میئر نائن الیون سے متعلق اہم دستاویزات پہلی بار منظرعام پر لے آئے

 



نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے کہا ہے کہ 11 ستمبر 2001 کے دہشت گرد حملوں کے بعد شہریوں کو گراؤنڈ زیرو کے قریب زہریلی ہوا کے خطرات سے متعلق درست معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے 9/11 حملوں سے متعلق ایک لاکھ 70 ہزار نئی دستاویزات جاری کرتے ہوئے کہا کہ حکام نے عوام کو یقین دلایا کہ ہوا سانس لینے کے لیے محفوظ ہے حالانکہ بعد میں سامنے آنے والے ریکارڈز میں خطرناک آلودگی کے شواہد موجود تھے۔ ظہران ممدانی کے بقول ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے ملبے کے قریب کیے گئے کئی ٹیسٹوں میں ایسبیسٹوس تقریباً ہر جگہ پایا گیا تھا۔ جن رہنماؤں پر لوگوں نے اعتماد کیا انہوں نے شہریوں کو زہریلی ہوا سے محفوظ ہونے کی یقین دہانی کرا کر گمراہ کیا۔ نئی دستاویزات کے مطابق 9/11 حملوں کے بعد ٹوئن ٹاورز کے ملبے سے اٹھنے والی گرد و دھویں میں موجود خطرناک مادوں کے باعث ہزاروں افراد صحت کے مسائل کا شکار ہوئے جن میں کینسر سمیت مختلف بیماریاں شامل ہیں۔ ٹی وی میزبان اور 9/11 متاثرین کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے جون اسٹیورٹ نے بھی نئی دستاویزات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ریکارڈز سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیویارک شہر کو اکتوبر 2001 تک یہ معلوم نہیں تھا کہ مین ہٹن کی ہوا زہریلی تھی۔ نئی جاری ہونے والی دستاویزات میں فضائی معیار سے متعلق رپورٹس اور سٹی حکام کے درمیان ہونے والی خط و کتابت شامل ہے۔ اکتوبر 2001 کی ایک اہم دستاویز میں خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ حکومتی صحت سے متعلق ہدایات کے باعث لوگ متاثرہ علاقے میں بہت جلد واپس آئے جس سے انہیں زہریلے مواد کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔ ایک اور یادداشت کے مطابق شہریوں کو ملبے اور گرد کو گیلے کپڑوں اور موپس سے صاف کرنے کی ہدایت دی گئی حالانکہ ایسبیسٹوس کی موجودگی کی صورت میں اس کی صفائی تربیت یافتہ اور لائسنس یافتہ ماہرین کے ذریعے کی جانی چاہیے تھی۔ دستاویزات میں یہ بھی سامنے آیا کہ اس وقت امریکی ماحولیاتی تحفظ کے ادارے سمیت شہر اور وفاقی حکام نے حملوں کے چند روز بعد ٹوئن ٹاورز کے اطراف کی ہوا کو محفوظ قرار دیا تھا۔ بعد میں تحقیق میں ہوا میں زہریلے کیمیکلز کی موجودگی کے شواہد سامنے آئے۔ امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی کی اس وقت کی سربراہ کرسٹین ٹوڈ وٹمین نے بعد میں اس حوالے سے معذرت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ادارے نے اس وقت دستیاب معلومات کی بنیاد پر اپنی پوری کوشش کی تھی۔ میئر ظہران ممدانی نے کہا کہ گزشتہ کئی انتظامیہ نے 9/11 سے متعلق مزید معلومات اور وضاحت کا مطالبہ کرنے والوں کو نظرانداز کیا تاہم ان کی انتظامیہ ایسا نہیں کرے گی۔ مزید دستاویزات بھی آئندہ ایک سال کے دوران جاری کی جائیں گی۔ 9/11 متاثرین کے خاندانوں اور متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ زہریلی ہوا سے متعلق مزید معلومات سامنے آنے سے یہ سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے کہ حملوں کے بعد سامنے آنے والی بیماریوں کی وجوہات کیا تھیں۔ واضح رہے کہ 9/11 حملوں کو 25 سال مکمل ہونے کے موقع پر جاری کی جانے والی یہ دستاویزات ایک قانونی مقدمے کے بعد سامنے آئی ہیں جس میں ایک متاثرین کے حقوق کی تنظیم نے حکام سے ریکارڈ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل