Thursday, September 10, 2026
 

چین: ویڈیوز کیلئے بے تحاشا کھانا کھانے والی 24 سالہ انفلوئنسر اچانک چل بسی

 



چین کی معروف مک بانگ انفلوئنسر چن زیئی، جو سوشل میڈیا پر ینگ ینگ کے نام سے مشہور تھیں، صرف 24 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں۔ ینگ ینگ کے والدین نے 4 ستمبر کو ان کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی بیٹی 17 اگست کو دنیا سے رخصت ہو گئی تھی، تاہم اہلِ خانہ نے موت کی باضابطہ وجہ ظاہر نہیں کی۔ ینگ ینگ کے سوشل میڈیا پر 10 لاکھ سے زائد فالوورز تھے اور وہ مک بانگ ویڈیوز اور لائیو اسٹریمز میں بڑی مقدار میں کھانا کھانے کیلئے مشہور تھیں۔ انہوں نے خود بتایا تھا کہ زیادہ کھانے سے لائیو اسٹریم پر ناظرین کی تعداد اور کارکردگی بہتر ہونے کے باعث ان پر مسلسل کھانے کا دباؤ رہتا تھا۔ انتقال سے صرف تین روز قبل 14 اگست کو شیئر کی گئی اپنی آخری ویڈیو میں انفلوئنسر نے بتایا تھا کہ انہیں خون میں پوٹاشیم کی انتہائی کمی کے باعث اسپتال داخل ہونا پڑا اور ان کا پوٹاشیم لیول 2.3 mmol/L تک گر گیا تھا۔         View this post on Instagram                       انہوں نے اپنی آخری ویڈیو میں یہ بھی انکشاف کیا تھا کہ انہیں اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ پوٹاشیم کی شدید کمی کا سامنا کرنا پڑ چکا ہے، پیسہ کمانا اہم ہے لیکن صحت ہمیشہ پہلے آنی چاہیے۔ رپورٹس کے مطابق ینگ ینگ نے ایک مرتبہ لائیو اسٹریم کے دوران 60 سے 70 محفوظ کیے گئے انڈے کھانے کا دعویٰ بھی کیا تھا، تاہم اس تعداد کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ شدید پوٹاشیم کی کمی دل کی دھڑکن میں خطرناک بے ترتیبی سمیت سنگین طبی مسائل کا خطرہ بڑھا سکتی ہے۔ بعض رپورٹس میں ینگ ینگ کی موت کو طویل عرصے سے جاری پوٹاشیم کی کمی کے بعد دل بند ہونے سے جوڑا گیا ہے، تاہم اہلِ خانہ یا کسی سرکاری طبی ذریعے نے موت کی وجہ کی تصدیق نہیں کی۔ ینگ ینگ کی اچانک موت کے بعد سوشل میڈیا پر انتہائی مقدار میں کھانا کھانے والے مک بانگ ٹرینڈ اور اس سے جڑے ممکنہ صحت کے خطرات پر ایک بار پھر بحث شروع ہو گئی ہے۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل