Loading
سندھ اسمبلی نے وفاقی حکومت سے پیٹرولیم لیوی سمیت دیگر مدات میں وصولیاں فوری بند کرنے کا مطالبہ کر دیا۔
سیکریٹری سندھ اسمبلی نے پیٹرولیم لیوی کے معاملے پر وفاقی وزارت پیٹرولیم کو باقاعدہ مراسلہ جاری کر دیا ہے جس میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ پیٹرولیم لیوی سمیت دیگر تمام غیر ضروری مدات میں وصولیاں فوری طور پر بند کرے۔
یہ مراسلہ جماعت اسلامی کے رکن اسمبلی محمد فاروق کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد کی منظوری کے بعد جاری کیا گیا ہے۔ قرارداد ایوان میں کثرت رائے سے منظور ہوئی تھی۔
قرارداد کے متن کے مطابق ملک میں پیٹرول کی اصل قیمت 238 روپے 70 پیسے فی لیٹر ہے۔ تاہم حکومت پیٹرول پر 80 روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی وصول کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ پیٹرول پر 5 روپے ماحولیاتی لیوی بھی عائد ہے۔
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ مختلف مارجنز کے نام پر مزید 25 روپے 30 پیسے فی لیٹر اضافی وصول کیے جا رہے ہیں۔ ان غیر ضروری وصولیوں کے باعث پیٹرول کے ساتھ ساتھ ڈیزل بھی مہنگا ہوگیا ہے۔
قرارداد میں موقف اپنایا گیا کہ پاکستان میں مہنگائی نے عوام پر 95 فیصد اضافی بوجھ ڈال دیا ہے۔ عوام پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ لہٰذا حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ عوام کو ریلیف دینے کے لیے پیٹرول پر عائد غیر ضروری لیویز اور ٹیکسز کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل