Loading
کراچی: جامعہ کراچی کے پروفیسرعارف خان ساقی اور بھتیجے پر تشدد کرنے والے مرکزی ملزم کونین کو پولیس نے گرفتار کیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق جامعہ کراچی کے شعبہ اسلامک لرننگ کے پروفیسر عارف خان ساقی اور بھتیجے کو دو روز قبل صفورہ چورنگی سندھ گرین ہوٹل کے قریب تشدد کا نشانہ بنانے والے بااثر ملزم کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔
پولیس حکام کے مطابق مقدمے میں پانچ ملزم پہلے ہی گرفتار ہیں جبکہ مرکزی ملزم مفرور تھا جبکہ اُس نے عدالت سے 21 ستمبر تک قبل از گرفتاری ضمانت بھی حاصل کی تھی۔
پروفیسر پر تشدد کرنے والے ملزم کی عدم گرفتاری پر چیئرپرسن قائمہ کمیٹی برائے داخلہ فریال تالپور نے برہمی کا اظہار کیا کرتے ہوئے پولیس افسران کی سخت سرزنش کی اور ہدایت کی تھی کہ ملزم کو راہ فرار کا موقع نہ دیا جائے۔
واضح رہے کہ سچل تھانے میں پروفیسر عارف خان ساقی کی مدعیت میں واقعے کا مقدمہ دو روز قبل درج کیا گیا تھا جس میں انہوں نے کونین شاہ کو مرکزی ملزم نامزد کیا اس کے علاوہ 5 صورت شناس ملزمان کو نامزد کیا گیا تھا۔
پروفیسر نے ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ ملزمان نے پہلے موقع پر بدترین تشدد کا نشانہ بنایا اور پھر ہوٹل کے اندر لے جاکر حبس بیجا میں رکھا جبکہ زدوکوب بھی کیا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل