Saturday, September 12, 2026
 

نائن الیون کے بعد 25 سال: امریکی جنگیں 45 لاکھ افراد نگل گئیں، کروڑوں بے گھر

 



11 ستمبر 2001 کے واقعات کے بعد امریکا کی زیر قیادت لڑی جانے والی طویل المدتی جنگوں اور فوجی کارروائیوں کو 25 سال مکمل ہو چکے ہیں، جن کے نتیجے میں دنیا بھر میں کروڑوں انسانی زندگیاں متاثر ہوئیں۔ ایک غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق گزشتہ ڈھائی دہائیوں کے دوران جاری رہنے والی ان جنگی مہمات میں 45 لاکھ سے 47 لاکھ افراد براہِ راست یا بالواسطہ موت کے منہ میں چلے گئے۔ اس تباہ کن صورتحال کے باعث تقریباً 3 کروڑ 80 لاکھ سے زائد شہری اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ افغانستان میں 2001 سے جاری رہنے والی دو دہائیوں پر محیط جنگ نے ایک لاکھ 76 ہزار افراد کی جان لی۔ اسی طرح 2003 میں عراق پر کیے گئے حملے کے نتیجے میں 3 لاکھ 15 ہزار سے زائد شہری براہِ راست ہلاکتوں کا شکار ہوئے۔ یہ قیامت خطے میں گہرے عدم استحکام کا سبب بنی۔ امریکی فوج نے پاکستان، یمن، صومالیہ، لیبیا اور شام جیسے ممالک میں متعدد ڈرون اور فضائی حملے کیے۔ داعش کے خلاف جاری مہم کے بارے میں امریکی حکام نے 1417 شہری ہلاکتوں کا اعتراف کیا، تاہم رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ یہ تعداد درحقیقت 8264 سے 13360 کے درمیان ہو سکتی ہے۔ جنگ کے ان برسوں میں امریکی فوجیوں کو بھی بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ افغانستان میں 2500 امریکی فوجی ہلاک اور 20 ہزار زخمی ہوئے، جبکہ عراق جنگ میں 3481 اہلکار اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور 31 ہزار سے زائد زخمی ہوئے۔ ان جنگوں پر امریکا نے 5.8 کھرب ڈالر خرچ کیے۔ سابق فوجیوں کی بحالی اور دیکھ بھال پر مزید 2.2 کھرب ڈالرز خرچ ہونے کا امکان ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ امریکی جنگوں کے اثرات صرف ہلاکتوں تک محدود نہیں، بلکہ ذہنی امراض، خودکشیوں کی بڑھتی شرح، شدید معاشی بوجھ اور طویل مدتی بے گھری کی صورت میں آج بھی معاشروں پر مرتب ہو رہے ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل