Saturday, September 12, 2026
 

صحت کیلیے ہمارا 14 ماہ کا کام پچھلے 30 سالوں  سے بہتر ہے، مصطفی کمال

 



وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے  کہا ہے کہ صحت کے شعبے میں ہمارا 14 ماہ کا کام پچھلے 30 سالوں  سے بہتر ہے۔ ایکسپو سینٹر کراچی میں منعقدہ 23ویں ہیلتھ ایشیا انٹرنیشنل ایگزیبیشن میں شرکت  اور مختلف اسٹالز کا دورہ  کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت سید مصطفی کمال نے  ملکی و غیر ملکی نمائش کنندگان اور وفود سے ملاقاتیں کیں۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہیلتھ کیئر قیامت تک جاری رہنے والا شعبہ ہے۔ جب تک انسان موجود ہے، اسے صحت کی دیکھ بھال کی ضرورت رہے گی۔ اسے ہیلتھ بزنس، سبجیکٹ یا ڈیپارٹمنٹ کچھ بھی کہا جائے، جب تک دنیا قائم ہے ہیلتھ کیئر بھی قائم رہے گی اور روزانہ اشرف المخلوقات کو ڈیل کرنا ہوگا۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ہمیں خیال رکھنا چاہیے کہ ہم انتہائی حساس جگہ پر حساس کام کررہے ہیں۔ پیدائش میں وقفہ ضروری ہے، ویکسین لگانا ضروری ہے جبکہ پینے کا صاف پانی بھی ہیلتھ کیئر کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرز اب لائف اسٹائل میڈیسن میں بھی آرہے ہیں۔ ان تمام امور کو ملا کر ہیلتھ کیئر بنتی ہے اور یہ صرف ایک وزیر کی ذمہ داری نہیں بلکہ گلی کے کونسلر کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ صاف پانی فراہم کرے۔ وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ صرف بیماری کا علاج کرنے کے بجائے لوگوں کو بیمار پڑنے سے روکنے پر توجہ دینا ہوگی، کیونکہ بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ ہر گلی کے کونے پر اسپتال بنانا ممکن نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی آبادی تقریباً 26 کروڑ ہے اور ہر سال تقریباً 67 لاکھ بچے پیدا ہورہے ہیں۔ ہر سال پاکستان نیوزی لینڈ سے بڑی آبادی کا اضافہ کررہا ہے، جبکہ ہر پانچ سال میں تقریباً آسٹریلیا کے برابر آبادی بڑھ جاتی ہے۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ اگر آبادی اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو 2030 تک پاکستان دنیا کے بڑے آبادی والے ممالک میں شامل ہوگا۔ ایسی صورت میں اگر آبادی کا چند فیصد حصہ بھی بیک وقت بیمار ہوجائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کتنے اسپتال بنائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ چند سال پہلے دنیا نے دیکھا کہ ایک ہی وقت میں بڑی تعداد میں لوگ بیمار ہوکر اسپتال پہنچے تو امریکا سمیت یورپ، برطانیہ، چین، بھارت اور ترکی کے ہیلتھ کیئر نظام بھی شدید دباؤ کا شکار ہوئے۔ وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ اگر کورونا کو ایک لمحے کے لیے ایک طرف رکھ دیں تو بنیادی مسئلہ یہ تھا کہ کسی بھی بیماری کے بڑے پیمانے پر پھیلنے کی صورت میں صحت کا نظام متاثر ہوسکتا ہے۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت کورونا کی کوئی وبا نہیں، لیکن معمول کے حالات میں بھی مختلف بیماریوں کے باعث بڑی تعداد میں لوگ اسپتالوں کا رخ کررہے ہیں اور ہمارے اسپتال پہلے ہی گنجائش سے زیادہ بوجھ برداشت کررہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جس ڈاکٹر کو 35 مریض دیکھنے چاہییں، وہ بعض اوقات 350 مریض دیکھ رہا ہے، اس کے باوجود مریضوں کی تعداد کم نہیں ہورہی۔ وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ جم کی مشینری پر ٹیکس لگایا گیا ہے تاکہ رقم لگا کر شہریوں کو اسپتالوں میں بھیجنے کے بجائے صحت کے شعبے پر توجہ دی جائے۔ ہمارے سیاستدان کو چار کمروں کا اسپتال بنانا اچھا لگتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہیلتھ کیئر قومی سکیورٹی اور معاشی مسئلہ ہے۔ پاکستان میں سالانہ 11 ہزار مائیں مر رہی ہیں، جبکہ دنیا میں دورانِ زچگی کہیں بھی ایک عورت بھی نہیں مرتی۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان کے پاس مشینیں تو ہیں، لیکن یہ ساری درآمد شدہ ہیں، تاہم آج یہاں ہیلتھ کیئر کے شعبے میں مسئلہ حل ہورہا ہے اور موجود کمپنیوں کی جانب سے ڈیڑھ کروڑ روپے کی مشین 35 سے 40 لاکھ روپے میں فراہم کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دوائیں خود بناتا ہے، تاہم خام مال بیرونِ ملک سے منگوایا جاتا ہے۔ دوسری جانب پاکستان نے اپنی مشینیں خود بنانا شروع کردی ہیں اور ڈھائی کروڑ روپے کی مشین 10 لاکھ روپے میں دستیاب ہورہی ہے۔ وفاقی وزیر صحت نے دعویٰ کیا کہ ہیلتھ کیئر کے شعبے میں حکومت کے 14 ماہ کا کام گزشتہ 30 سالوں کے کام سے بہتر ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل