Monday, September 14, 2026
 

ٹرمپ نے ایران کو چینی سیٹلائٹ تصاویر کی فراہمی کی رپورٹ مسترد کردی

 



واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے زیادہ اہمیت نہیں دی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ جولائی میں اردن کے ایک امریکی فوجی اڈے پر حملے سے قبل ایران نے چینی اداروں سے اس اڈے کی سیٹلائٹ تصاویر حاصل کی تھیں۔ رپورٹ کے مطابق ایرانی میزائل حملے میں 3 امریکی فوجی ہلاک اور 4 زخمی ہوئے تھے۔ امریکی حکام نے وال اسٹریٹ جرنل کو بتایا تھا کہ ایران نے اردن کے موافق السلطی ایئربیس کی اعلیٰ ریزولوشن تصاویر حملے سے پہلے اور بعد میں حاصل کیں اور امریکی حکام نے ان تصاویر کو حملے سے جوڑا ہے۔ تاہم چینی حکومت کی براہِ راست مداخلت کا الزام عائد نہیں کیا گیا اور متعلقہ چینی اداروں کے نام بھی ظاہر نہیں کیے گئے۔ چین نے امریکی خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کسی چینی کمپنی کے ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن نے یہ معاملہ چینی حکام کے سامنے بھی اٹھایا، تاہم بیجنگ نے شواہد پیش کرنے کا مطالبہ کیا۔ ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ آئندہ ملاقات میں یہ معاملہ اٹھائیں گے۔ ٹرمپ نے براہِ راست جواب دینے کے بجائے کہا کہ چین بھی امریکا کی جاسوسی کرتا ہے اور امریکا بھی چین کی نگرانی کرتا ہے۔ اس معاملے نے ایسے وقت میں امریکا اور چین کے تعلقات میں ایک نیا حساس پہلو پیدا کردیا ہے جب دونوں ممالک کے صدور کے درمیان آئندہ سربراہی ملاقات متوقع ہے۔ تاہم دستیاب معلومات کے مطابق چینی حکومت کو براہِ راست اس حملے میں ملوث قرار دینے کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل