Loading
میر رضا کیس میں قائم جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن نے 15 ستمبر کی کارروائی کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا۔
تحریری حکم نامے کے مطابق کارروائی کے دوران انسپکٹر محمد علی، شہریار علی، اسد علی بٹ اور ہیڈ کانسٹیبل ذیشان حیدر کے بیانات ریکارڈ کیئے گئے۔
آسٹریلیا میں موجود گواہ حسن تنولی کا بیان وڈیو لنک پر ریکارڈ کیا گیا۔ احمد حسن نے کمیشن کو بتایا کہ میر رضا کی واچ سے ملنے والی سرمایہ کاروں کی فہرست میں احمد عثمان کا نام درج ہے۔ احمد حسن کے مطابق احمد اور عثمان دو الگ الگ افراد ہیں۔
احمد حسن کے مطابق انہوں نے بھی میر رضا کے بزنس میں سرمایہ کاری کی تھی۔ رجسٹرار احمد حسن کو آئندہ اجلاس کی تاریخ سے آگاہ کریں گے۔ کمیشن نے سرکاری ملازم عثمان بوزئی کو بھی مناسب طریقہ کار کے تحت نوٹس جاری کرنے کی ہدایت کی۔
تحریری حکمنامے کے مطابق اہلخانہ کے وکیل جبران ناصر نے میر رضا کے والد کو موصول کال سے متعلق ریکارڈ پیش کیا۔ جبران ناصر کے مطابق کال کرنے والے نے خود کو سینیئر سرکاری افسر ظاہر کیا۔ آڈیو کے مطابق کالر نے ایس ایچ او عدیل افضال کی حمایت کی۔آڈیو میں موجود دیگر گفتگو آرڈر میں شامل کرنے کے لئے مناسب نہیں سمجھتے۔
ایس ایچ او عدیل افضال کو حمایت کے لئے مہم چلانے پر تنبیہ کی جاتی ہے۔ کمیشن کو تھانہ فیروز آباد اور گلستان جوہر کے روزنامچہ بھی فراہم کئے گئے۔ کمیشن نے مشاہدہ کیا کہ دونوں تھانوں کے ایس ایچ اوز پہلے ہی اپنے بیانات ریکارڈ کروا چکے ہیں۔
تحریری حکمنامے میں کہا گیا کہ ڈاکٹر اسامہ نے کمیشن کو بتایا کہ صحافی سے موبائل فون چھیننے والے فرد کو کمیشن میں پیش کریں گے۔
ڈاکٹر اسامہ کو صحافی کا موبائل فون چھیننے پر شوکاز نوٹس جاری کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر اسامہ نے مزید بیان ریکارڈ کروانے کے لئے موقع فراہم کرنے کے درخواست کی۔ کمیشن نے ڈاکٹر اسامہ کو باضابطہ درخواست دائر کرنے کی ہدایت کی ہے۔
کیس کے پہلے تفتیشی افسر شبیر لغاری کو پیشی کے لئے نوٹس جاری کردیئے۔ کمیشن کا آئندہ اجلاس 17 ستمبر کو ہوگا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل