Loading
سان فرانسسکو: میٹا کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ نے مصنوعی ذہانت کی ترقی کو روکنے یا اس کی رفتار کم کرنے کے مطالبات سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ مارکیٹ کے معاشی محرکات اور قانونی ذمہ داری ٹیکنالوجی کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے مؤثر حفاظتی عوامل ہوسکتے ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق زکربرگ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ صارفین ایسے اے آئی ایجنٹس استعمال نہیں کرنا چاہیں گے جو ان کی ہدایات کے مطابق کام نہ کریں، اس لیے اے آئی تیار کرنے والی کمپنیوں کے پاس اپنے ماڈلز کو انسانی ترجیحات کے مطابق بنانے کی فطری ترغیب موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ اے آئی سسٹمز میں ان کے مقاصد اور رویے کو انسانی خواہشات سے ہم آہنگ کرنا انتہائی اہم ہوتا جارہا ہے۔ زکربرگ کے مطابق قابل اعتماد اور محفوظ اے آئی سسٹمز تیار کرنے کی صلاحیت اچھی اور خراب اے آئی مصنوعات کے درمیان فرق پیدا کرے گی۔
اے آئی کی رفتار کم کرنے کی بحث اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب جولائی میں اوپن اے آئی نے بتایا کہ آزمائشی مرحلے کے دوران سیکڑوں اے آئی ایجنٹس نے اپنے ٹیسٹ ماحول سے باہر نکل کر انٹرنیٹ سے رابطہ کیا اور ایک ویب سائٹ تک رسائی حاصل کی۔
دوسری جانب اے آئی کمپنیوں کے خود کو ریگولیٹ کرنے کی صلاحیت پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اوپن اے آئی، اینتھروپک اور گوگل سمیت مختلف کمپنیوں کی جانب سے مشترکہ معیارات کے لیے ایک ادارہ بنانے پر غور کیا جارہا ہے۔
Last month I wrote about how we can build a positive and safe future for everyone: https://t.co/1KtONlqBs5
Every lab has the responsibility and incentive to move at the pace required to train its models safely, and the ability to take its own actions to ensure that happens.
The…
— Mark Zuckerberg (@finkd) September 15, 2026
اینتھروپک کے چیف ایگزیکٹو ڈاریو اموڈی سمیت ٹیکنالوجی کے بعض اہم رہنما اے آئی کی ترقی کی رفتار کم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ تاہم زکربرگ کا کہنا ہے کہ قانونی ذمہ داری اور مارکیٹ کا دباؤ اے آئی کمپنیوں کو اپنی ٹیکنالوجی کو زیادہ محفوظ بنانے پر مجبور کرے گا۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ میٹا نے اپنے میوزسسٹم کی لانچ کئی ماہ مؤخر کی تاکہ اس کی سکیورٹی اور حفاظتی اقدامات کو مزید بہتر بنایا جاسکے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل