Loading
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن کا کہنا ہے کہ اگر یہ 3 فیصد سود کم کر دیں تو لیوی لگانے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی، ایک فیصد سود کم کرنے سے 594ارب روپے کی بچت ہوگی۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم نے کہا کہ جماعت اسلامی نے سود کم کرنے سمیت 6نکات پیش کیے۔ آئین میں سود ختم کرنے کا کہہ کر سود کو جاری رکھنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں، سود کو پہلے مرحلے پر 9 فیصد تک لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے عذاب میں حکومت کمی کرنے کو تیار نہیں جبکہ حکومت جو پیکیج دے رہی ہے وہ بھی ناکافی ہے، اکثریت کو سبسڈی نہیں مل رہی لیکن لیوی کرتے تو سب کو ریلیف مل جاتا۔
حافظ نعیم نے سوال اٹھایا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو زیادہ ماجن کیوں دیے جا رہے ہیں، آئی پی پیز اور ری گیسیفیکیشن کے پلانٹس کو آج بھی کیپسٹی پیمنٹ دی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا ایران جنگ کے شروع ہونے پر پیٹرولیم قیمتیں بڑھ گئیں جبکہ بھارت، بنگلا دیش اور چین میں ریفائرنریز سے بات کرکے لوگوں کو ریلیف پہنچایا لیکن ہماری حکومت نے ٹارگٹ سے بھی زیادہ لیوی اکٹھی کرلی۔
حافظ نعیم نے کہا کہ حکومت نے مشکل حالات میں بھی لوگوں کی جیبوں پر ڈاکا ڈالا، ٹیکس جمع کرنے والے ادارے ایف بی آر نے 1300ارب روپے کم ٹیکس جمع کیا لیکن حکومت نے اپنی عیاشیاں کم نہیں کیں۔ ڈیزل معاشی پہیہ چلاتا ہے اس میں کوئی ریلیف نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ جب آئی ایم ایف جاگیر داروں پر ٹیکس لگانے کا کہتا ہے تو نہیں لگاتے، غریب کسانوں پر ٹیکس لگاتے ہیں، تنخواہ دار طبقے سے 700ارب روپے سے زائد ٹیکس لیا گیا ہے۔
امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ ہماری یہ تحریک زور پکڑ رہی ہے، 20 ستمبر سے لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے اور یہ تاریخ کا سب سے بڑا مارچ ہوگا، ان کو عوام کا کوئی احساس ہی نہیں ہے، اگر اس وقت قوم ہمارا ساتھ نہیں دے گی تو حالات بہتر نہیں ہوں گے، کسی پارٹی کا ایجنڈا عوام کے مسائل نہیں ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل