Tuesday, September 22, 2026
 

سعودی عرب کی توانائی تنصیبات کو خطرہ، فرانس نے دفاعی مدد کی پیشکش کردی

 



​​​​​پیرس: فرانس نے حوثیوں کے حملوں کے خطرے کے پیش نظر سعودی عرب کی اہم توانائی تنصیبات کو محفوظ بنانے میں مدد کی پیشکش کردی ہے، تاہم فرانس نے واضح کیا ہے کہ اس کا کردار صرف دفاعی نوعیت کا ہوگا اور وہ حوثیوں کے خلاف جنگ میں براہِ راست شریک نہیں ہوگا۔ ایک فرانسیسی سفارتی ذریعے کے مطابق فرانس سعودی عرب کے شہر ینبع میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن کی سکیورٹی میں تعاون کیلئے تیار ہے۔ ذریعے نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد صرف سعودی توانائی تنصیبات کا دفاع اور انہیں محفوظ بنانا ہے۔ ینبع بحیرۂ احمر کی ایک اہم بندرگاہ ہے جہاں سعودی تیل کمپنی آرامکو کی تنصیبات موجود ہیں۔ حالیہ دنوں میں حوثیوں نے ینبع میں آرامکو کی تنصیبات کو بھی حملوں کا نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب کی تقریباً 1,200 کلومیٹر طویل ایسٹ ویسٹ پائپ لائن بھی ڈرون حملوں کے بعد عارضی طور پر بند کردی گئی ہے۔ یہ پائپ لائن مشرقی سعودی عرب کے تیل کے ذخائر کو بحیرۂ احمر کے ساحل پر واقع ینبع سے ملاتی ہے اور عالمی تیل کی ترسیل کیلئے اہم راستہ سمجھی جاتی ہے۔ فرانس کا کہنا ہے کہ سعودی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی سکیورٹی میں تعاون کا مطلب حوثیوں کے خلاف جاری تنازع میں براہِ راست فوجی شرکت نہیں ہوگا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی عرب کو حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں کے باعث اپنی توانائی تنصیبات اور تیل کی برآمدات کے تحفظ کے حوالے سے نئے سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل