Loading
چین نے صدر شی جنپنگ کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اہم ملاقات سے صرف دو روز قبل فوج کے دو اعلیٰ ترین جرنیلوں کو مبینہ بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور پارٹی سے بے وفائی کے الزامات میں عہدوں سے برطرف کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چینی کمیونسٹ پارٹی نے جنرل ژانگ یوشیا اور جنرل لیو ژنلی کو فوجی عہدوں سے ہٹا دیا ہے۔
جنرل ژانگ یوشیا مرکزی فوجی کمیشن کے نائب چیئرمین اور چینی فوجی نظام میں صدر شی جنپنگ کے بعد دوسرے اہم ترین عہدے پر فائز تھے جبکہ جنرل لیو ژنلی اسی کمیشن کے جوائنٹ اسٹاف ڈپارٹمنٹ کے سربراہ رہ چکے ہیں۔
چینی سرکاری خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق دونوں جرنیلوں پر پارٹی کے سیاسی اصولوں اور نظم و ضبط کی خلاف ورزی، اختیارات کا غلط استعمال، بدعنوانی اور ذاتی مفادات کے لیے گروہ بندی کے الزامات ہیں۔
تحقیقات کے مطابق دونوں نے عہدوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بعض افراد کی ترقی میں مدد کی اور رشوت وصول کی۔ دونوں کے خلاف تحقیقات جنوری 2026 میں شروع ہوئی تھیں اور اب معاملہ فوجی استغاثہ کے حوالے کیا جائے گا۔
چین میں 2020 سے اب تک 100 سے زائد اعلیٰ فوجی افسران کو عہدوں سے ہٹائے جانے یا منظرعام سے غائب ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ کارروائیاں فوج میں بدعنوانی کے خاتمے کے ساتھ صدر شی کی فوج پر گرفت مضبوط کرنے کی مہم کا حصہ ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل