Tuesday, September 22, 2026
 

مصطفیٰ عامر قتل کیس، جج کی سیٹ خالی ہونے کا انکشاف، ’سمجھ نہیں آتا کیس کیوں نہیں چلانا چاہتے؟‘

 



سندھ ہائیکورٹ میں مقتول مصطفیٰ عامر کے قتل کیس کو جلد نمٹانے کی درخواست پر سماعت کے دوران اے ٹی سی جج کی غیر موجودگی اور ملزم کے عدم تعاون کا انکشاف ہوا۔ سندھ ہائیکورٹ میں مصطفیٰ عامر قتل کیس میں تیز ٹرائل سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔ انسداد دہشتگردی عدالت کی عدم فعالی اور ملزم کی جانب سے نوٹسز وصول نہ کرنے کا انکشاف سامنے آیا۔ جسٹس اقبال کلہوڑو نے ریمارکس دیئے کہ عدالت نے پہلے بھی اس کیس کو جلد نمٹانے کی ہدایت کی تھی۔ تفتیشی افسر محمد علی نے بتایا کہ متعلقہ انسداد دہشتگردی عدالت خالی ہے کیونکہ فاضل جج کی تعیناتی کی مدت مکمل ہوچکی ہے۔ جج کی غیر موجودگی پر عدالت نے استفسار کیا کہ "اگر متعلقہ عدالت فعال ہی نہیں ہے تو ہم کس کو ہدایت دیں؟ معمول میں تو ہمارے پاس ملزمان کی درخواستیں آتی ہیں کہ ان کے کیسز جلد مکمل کیئے جائیں، سمجھ نہیں آ رہا کہ یہ کیس کیوں نہیں چلانا چاہتے۔” عدالت کو بتایا گیا کہ جیل سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق ملزم ارمغان نے جیل میں عدالتی نوٹس وصول کرنے سے انکار کردیا ہے۔ مقتول مصطفیٰ عامر کی والدہ کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ عدالت نے گزشتہ سماعت پر ملزم کے وکیل کو پیش ہونے کی ہدایت کی تھی۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ جب ملزم خود نوٹس وصول نہیں کررہا تو وکیل اپنے موکل کی ہدایت کے بغیر کیسے پیش ہوگا۔ عدالت نے تمام صورتحال کے پیش نظر ملزم کو دوبارہ نوٹس جاری کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 13 اکتوبر تک ملتوی کردی۔ واضح رہے کہ مصطفیٰ عامر کی والدہ نے کیس میں غیر ضروری تاخیر کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا، جبکہ اے ٹی سی نے اپنی سابقہ رپورٹ میں تاخیر کا ذمہ دار ملزم ارمغان اور اس کے وکیل کو قرار دیا تھا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل