Loading
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جنپنگ کے درمیان وائٹ ہاؤس میں ملاقات ہوئی، جس میں ایران، تائیوان، تجارت اور امریکا چین تعلقات سمیت اہم عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
چینی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق اس ملاقات میں صدر شی جنپنگ نے صدر ٹرمپ سے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جون میں طے پانے والے مفاہمتی سمجھوتے کی بحالی حمایت کرتے ہیں۔
شی جنپنگ نے ایران کیساتھ جنگ فوری ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ چین ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی حوصلہ افزائی میں تعمیری کردار ادا کرتا رہا ہے۔
خیال رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان 12 جون کو پاکستان کی ثالثی میں اسلام آباد طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت چند روزہ جنگ بندی ہوئی تھی اور آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت میں اضافہ ہوا تھا۔
چینی صدر شی جنپنگ نے تائیوان کے معاملے پر بھی چین کا مؤقف واضح کرتے ہوئے ٹرمپ پر زور دیا کہ وہ ’تائیوان کی آزادی‘ کی مخالفت کریں اور اس مسئلے کو احتیاط سے سنبھالیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے چینی ہم منصب سے ملاقات کو شاندار ملاقات قرار دیتے ہوئے کہا کہ خوشگوار ماحول میں ہونے والی بات چیت کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ شکوے گلے دور ہوں گے۔ آج کے فیصلے کئی دہائیوں تک امن و خوش حالی کو فروغ دے سکتے ہیں۔
چینی صدر شی جنپنگ نے بتایا کہ اگلے پانچ برسوں میں ایک لاکھ امریکی نوجوانوں کو تعلیمی و ثقافتی تبادلہ پروگراموں کے تحت چین آنے کی دعوت دی جائے گی۔
شی جنپنگ نے چین اور امریکا کے درمیان دوستی کی علامت کے طور پر دو پانڈا بھی امریکا بھجوانے کا اعلان کیا ہے۔
خیال رہے کہ ملاقات سے قبل شی جنپنگ 23 ستمبر کو امریکی صدر کی دعوت پر واشنگٹن پہنچے تھے جہاں ٹرمپ اور خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ نے ان کا پرتپاک استقبال کیا تھا۔
چینی صدر شی جنپنگ نے وائٹ ہاؤس میں استقبالیہ تقریب سے خطاب میں کہا تھا کہ امریکا اور چین کو اختلافات کے باوجود مذاکرات، تعاون اور پرامن بقائے باہمی کو فروغ دینا چاہیے۔
انھوں نے دونوں ملکوں کے درمیان مسابقت کو تصادم میں تبدیل ہونے سے روکنے پر بھی زور دیا تھا۔
واضح رہے کہ چینی صدر شی جنپنگ کا دورۂ امریکا 23 سے 25 ستمبر تک جاری رہے گا اور یہ رواں سال دونوں رہنماؤں کی دوسری ملاقات ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل