Thursday, September 24, 2026
 

اقوام متحدہ کے باہر مظاہرین نے اسرائیلی وزیراعظم کے پتلے کو پھانسی پر لٹکادیا

 



نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی آمد اور تقریر کے موقع پر باہر شدید احتجاج دیکھنے میں آیا جہاں فلسطینی نسل کشی پر شدید نعرے بازی کی گئی۔ ’ٹائمز آف اسرائیل‘ کے مطابق یہ احتجاج نیتن یاہو کے جنرل اسمبلی سے خطاب کے موقع پر کیا گیا جہاں مظاہرین نے اسرائیلی حکومت اور فوج کے خلاف شدید نعرے لگائے۔ احتجاج میں نیتن یاہو پتلے کو قیدیوں کے لباس میں دکھایا گیا تھا اور اس پر ’شیطان‘ کا نام درج تھا۔ بعد ازاں اسرائیلی وزیراعظم کے اس پتلے کو پھانسی بھی دی گئی۔ مظاہرین نے نیتن یاہو کے خلاف انتہائی سخت اور دھمکی آمیز نعرے بھی لگائے۔ بعض افراد نے سر پر ایسے تھیلے پہن رکھے تھے جن پر پھندوں کی تصاویر چسپاں تھیں۔ احتجاج کے شرکا نے جو پلے کارڈز اُٹھا رکھے تھے ان میں سے بعض پر اسرائیلی وزیرِ قومی سلامتی اتمار بن گویر کے خلاف بھی سزائے موت اور پھانسی کے مطالبے درج تھے۔ احتجاج میں اسرائیل کو نازی ازم سے تشبیہ دینے والی علامتی تصاویر بھی دکھائی گئیں جبکہ ایک پلاسٹک کے خنزیر کے سر کو ’بی بی‘ کے نام سے ایک ڈنڈے پر نصب کیا گیا تھا۔ اقوام متحدہ کے باہر مظاہرین نے اسرائیلی فوج کے خلاف بھی نعرے لگائے اور فلسطینی انتفاضہ کے حق میں نعرے بلند کیے۔ احتجاج کے اگلے حصے میں خون آلود چادروں میں لپٹی بچوں کی گڑیوں کے ذریعے غزہ میں بچوں کی ہلاکتوں اور جنگ کے اثرات کی علامتی منظرکشی بھی کی گئی۔ واضح رہے کہ نیتن یاہو نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں ایران، غزہ، حماس، قطر اور ترکیہ سمیت اسرائیل کے ناقدین پر سخت تنقید کی اور غزہ میں اسرائیل پر عائد نسل کشی کے الزامات کو مسترد کیا۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل