Loading
موجودہ عالمی حالات میں پاکستان کو بیک وقت دو ایسے محاذوں پر اپنی ترجیحات متعین کرنا پڑ رہی ہیں جن کا بظاہر ایک دوسرے سے تعلق کم دکھائی دیتا ہے، مگر حقیقت میں دونوں ایک ہی قومی سوال کے مختلف رخ ہیں۔ عام آدمی کو معاشی تحفظ کیسے دیا جائے اور خطے کو جنگ کے پھیلتے ہوئے سایے سے کیسے نکالا جائے۔
ایک طرف مہنگائی، ایندھن کی قیمتیں اور محدود مالی گنجائش حکومت کے سامنے داخلی آزمائش بن کر کھڑی ہیں، دوسری طرف ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی نے خلیج، آبنائے ہرمز اور عالمی توانائی کی رسد کو غیر معمولی خطرات سے دوچار کر رکھا ہے۔ ایسے وقت میں معاشی فیصلے محض بجٹ کے اعداد نہیں رہتے اور سفارتی کوششیں محض خارجہ پالیسی کی سرگرمی نہیں ہوتیں؛ دونوں براہِ راست قومی سلامتی، عوامی زندگی اور ریاست کی معاشی خودمختاری سے جڑ جاتے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف کی آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا سے ملاقات اسی وسیع تر پس منظر میں اہمیت رکھتی ہے۔ وزیراعظم نے غریب عوام کے لیے فی لیٹر 100 روپے کی ہدفی پٹرول سبسڈی کا معاملہ اٹھایا اور اس امر پر زور دیا کہ معاشی دباؤ نے عام آدمی کی زندگی کو کس قدر دشوار بنا دیا ہے۔ دوسری جانب آئی ایم ایف کی سربراہ نے پاکستان میں جاری اصلاحات اور ان پر عمل درآمد کو معاشی استحکام، اعتماد کی بحالی اور عالمی مالیاتی منڈیوں تک دوبارہ رسائی کے تناظر میں اہم قرار دیا۔
یہاں اصل سوال صرف یہ نہیں کہ سبسڈی پر آئی ایم ایف نے اعتراض کیا یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ پاکستان اپنے محدود وسائل میں سماجی تحفظ اور مالیاتی نظم کے درمیان توازن کس طرح قائم کرتا ہے۔ ماضی کا تجربہ بتاتا ہے کہ عمومی اور غیر ہدفی سبسڈی خزانے پر ایسا بوجھ ڈال دیتی ہے جس کا فائدہ اکثر حقیقی مستحقین کے بجائے نسبتاً بہتر آمدنی رکھنے والے طبقات بھی اٹھاتے ہیں۔ اس کے برعکس ہدفی امداد کا بنیادی فلسفہ یہ ہے کہ ریاست اپنی مدد وہاں پہنچائے جہاں ضرورت سب سے زیادہ ہو، اگر اس نظام میں مستحق افراد کی درست شناخت، شفاف ادائیگی، موثر نگرانی اور سیاسی مداخلت سے پاک انتظام یقینی بنایا جائے تو محدود وسائل کے باوجود معاشی دباؤ کا کچھ بوجھ کم کیا جا سکتا ہے۔
لیکن کسی بھی سبسڈی کو مستقل معاشی علاج سمجھنا خطرناک ہوگا۔ سبسڈی وقتی سہارا دے سکتی ہے، آمدنی میں اضافہ نہیں کرتی، قیمت کا ایک حصہ حکومت اٹھا سکتی ہے، مگر معیشت کی پیداواری کمزوری کو ہمیشہ کے لیے سرکاری خزانہ نہیں اٹھا سکتا۔ پاکستان کو اسی لیے ریلیف کے ساتھ ساتھ ایسے بنیادی معاشی اقدامات درکار ہیں جو روزگار، پیداوار، برآمدات، توانائی کی کارکردگی اور ٹیکس کے منصفانہ نظام کو مضبوط کریں۔ آئی ایم ایف بھی اصلاحات کے تسلسل کو معاشی استحکام اور اعتماد کی بحالی سے جوڑ رہا ہے۔
یہاں ایک بنیادی اصول نظرانداز نہیں ہونا چاہیے۔ اصلاحات کا مقصد محض عالمی مالیاتی اداروں کو مطمئن کرنا نہیں بلکہ پاکستانی شہری کی زندگی کو قابل برداشت بنانا ہے، اگر مالیاتی نظم مضبوط ہو مگر عام آدمی کی قوتِ خرید مسلسل سکڑتی جائے تو اعدادوشمار کی بہتری سماجی سطح پر بے معنی محسوس ہوسکتی ہے۔ اسی طرح اگر حکومت عوام کو فوری ریلیف دینے کے لیے مالیاتی نظم کو نظرانداز کردے تو وقتی مقبولیت کے بعد زیادہ سنگین بحران جنم لے سکتا ہے۔ اصل کامیابی اسی درمیانی راستے میں ہے جہاں مالیاتی استحکام اور سماجی انصاف ایک دوسرے کے متضاد نہیں بلکہ معاون بنیں۔
وزیراعظم کا اقوام متحدہ میں حق ترقی پر زور دینا بھی اسی تصور کو وسیع تر عالمی تناظر فراہم کرتا ہے۔ ترقی محض قومی پیداوار یا زرمبادلہ کے ذخائر کا نام نہیں، اگر ترقی کے ثمرات معاشرے کے کمزور طبقے تک نہ پہنچیں تو اقتصادی نمو کی معنویت محدود ہوجاتی ہے۔ قرضوں کی ادائیگی، موسمیاتی آفات اور ترقی پذیر ممالک کی مالی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے جس مسئلے کی طرف توجہ دلائی، وہ پاکستان کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ موسمیاتی تباہی ایک طرف زرعی پیداوار اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچاتی ہے، دوسری طرف پہلے سے محدود مالی وسائل کو ہنگامی اخراجات کی طرف موڑ دیتی ہے۔ چنانچہ معاشی پالیسی کو موسمیاتی حکمت عملی سے الگ رکھنا اب ممکن نہیں۔
یہ داخلی معاشی چیلنج ایسے وقت میں سامنے ہے جب پاکستان خطے میں جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوشش بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ وزیراعظم نے واضح کیا ہے کہ اسلام آباد ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات کی بحالی کے لیے کوششیں ترک نہیں کرے گا۔ موجودہ کشیدگی میں پاکستان کا یہ کردار اس لیے بھی اہم ہے کہ ایران اس کا ہمسایہ ہے اور خلیج کی سلامتی پاکستان کی تجارت، توانائی، ترسیل اور مجموعی معاشی ماحول پر براہِ راست اثر انداز ہوتی ہے۔ وزیراعظم نے اقوام متحدہ میں بھی امن، مذاکرات اور ترقی کے باہمی تعلق پر زور دیا۔
اس سفارتی کوشش کی قدر اس بات سے نہیں ہونی چاہیے کہ فوری طور پر کوئی معاہدہ ہوجاتا ہے یا نہیں۔ سفارت کاری کی اصل طاقت بعض اوقات اس عمل میں ہوتی ہے جس کے ذریعے فریقین کو مکمل تصادم کے بجائے بات چیت کا راستہ دستیاب رکھا جاتا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ رابطوں میں بھی یہی تضاد نمایاں ہے کہ ایک طرف سخت بیانات، پابندیاں اور عسکری دباؤ موجود ہیں اور دوسری طرف مذاکرات کا دروازہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔ اقوام متحدہ کے اجلاس کے موقع پر امریکی اور ایرانی نمائندوں کے درمیان بالواسطہ رابطوں اور مذاکرات کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، اگرچہ دونوں فریقوں کے درمیان بنیادی اختلافات بدستور موجود ہیں۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں طاقت کی زبان مسترد کرتے ہوئے مذاکرات اور سفارت کاری کے لیے آمادگی ظاہر کی، اگرچہ انھوں نے امریکی دباؤ کے سامنے جھکنے سے انکار کیا۔ اس بیان میں ایک اہم تضاد نہیں بلکہ مذاکراتی سیاست کی حقیقت پوشیدہ ہے۔ جنگ میں مبتلا ریاستیں اپنے قومی موقف کو سخت زبان میں پیش کرتے ہوئے بھی کسی نہ کسی مقام پر مذاکرات کی گنجائش تلاش کرتی ہیں۔
پاکستان کے لیے اس پہلو کی اہمیت دوچند ہے۔ ایک طرف ملک اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے عالمی منڈی سے جڑا ہوا ہے، دوسری طرف تیل کی قیمتوں میں کسی بھی بڑی اور دیرپا تبدیلی کا اثر براہِ راست نقل و حمل، بجلی، صنعت، زراعت اور بالآخر گھریلو بجٹ پر پڑتا ہے۔ یوں آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی جہاز کو پہنچنے والا نقصان چند ہزار میل دور پاکستانی گھرانے کے باورچی خانے تک اپنا اثر پہنچا سکتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں خارجی بحران داخلی معاشی بحران میں تبدیل ہوتا ہے۔
اسی لیے پاکستان کی سفارت کاری کو محض ثالثی کی خواہش نہیں بلکہ قومی معاشی مفاد کے ایک حصے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ امن کی کوشش دراصل پاکستان کے لیے توانائی کے تحفظ، تجارت کے تسلسل، سمندری راستوں کی سلامتی اور مہنگائی کے دباؤ میں کمی کی کوشش بھی ہے۔ پاکستان نہ تو عالمی طاقتوں کے درمیان کشمکش کا فریق بننے کی استطاعت رکھتا ہے اور نہ ہی اپنے ہمسایہ خطے میں مسلسل جنگ کا متحمل ہوسکتا ہے۔ اس کے مفاد میں یہی ہے کہ مذاکرات کا راستہ کھلا رہے، علاقائی ممالک کو تصادم سے دور رکھا جائے اور بین الاقوامی قانون کے تحت بحری گزرگاہوں کی آزادی اور سلامتی کو یقینی بنایا جائے۔
پاکستان کو اب وقتی فیصلوں سے آگے بڑھ کر ایسی جامع حکمت عملی درکار ہے جس میں معاشی استحکام، سماجی تحفظ، توانائی کی سلامتی اور خارجہ پالیسی ایک دوسرے سے الگ خانوں میں نہ رہیں۔ ہدفی سبسڈی شفاف ہو، اصلاحات کا بوجھ منصفانہ تقسیم ہو، محصولات کا نظام وسیع اور عادلانہ بنایا جائے، برآمدی صلاحیت بڑھائی جائے اور توانائی کے متبادل ذرائع پر سرمایہ کاری تیز کی جائے۔ اسی کے ساتھ سفارتی سطح پر جنگ بندی، مذاکرات اور علاقائی مفاہمت کے لیے پاکستان کی کوششیں مستقل مزاجی سے جاری رہنی چاہئیں۔
دنیا اس وقت ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں ایک میز پر بیٹھ کر ہونے والی گفتگو اور سمندر میں چلنے والے ایک تجارتی جہاز کا سفر، دونوں عالمی معیشت کے مستقبل سے جڑے ہوئے ہیں۔ نیویارک میں سفارتی الفاظ اور آبنائے ہرمز میں بھڑکتی آگ اسی حقیقت کی دو تصویریں ہیں۔ پاکستان کے لیے راستہ واضح ہے۔ داخلی سطح پر ایسی معیشت جو کمزور شہری کو بے سہارا نہ چھوڑے اور خارجی سطح پر ایسی سفارت کاری جو جنگ کے بجائے مذاکرات کو جگہ دے۔ معاشی اصلاحات اگر انسانی وقار سے جڑ جائیں اور سفارت کاری اگر قومی مفاد کے ساتھ امن کو مرکز بنائے تو موجودہ بحران محض خطرہ نہیں رہتا، ایک زیادہ متوازن قومی حکمت عملی کی ضرورت کا آئینہ بھی بن جاتا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل