Loading
مسلم لیگ ن کے گزشتہ سولہ ماہ اور بعد میں فروری 2024 سے شروع ہونے والے حالیہ اقتدار سمیت تقریباً چار سال مکمل ہو رہے ہیں ،مگر وہ کارکردگی نظر نہ آئی جو شہباز اسپیڈ کے نام سے مشہور تھی، نہ ان کی چار سالہ حکومت میں ملک کے عوام کو کوئی ریلیف ملا بلکہ مسلسل مہنگائی و بے روزگاری ہی ملک و قوم کا مقدر بنی ہوئی ہے۔
موجودہ وزیر داخلہ محسن رضا نقوی نے 6 ماہ تک پنجاب کا نگران وزیر اعلیٰ رہ کر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔ موجودہ حکومت نے مہنگائی بڑھا کر عوام کی زندگی عذاب بنائے جانے کا جو ریکارڈ قائم کیا ہے وہ شاید آنے والی کوئی حکومت نہیں توڑ سکے گی۔ موجودہ حکومت میں ملک کی سب سے بڑی کابینہ کی موجودگی میں مہنگائی کا ریکارڈ قائم ہو چکا ہے ، صرف دعوے کیے گئے مگر عملی طور پر عوام کو کوئی ایک بھی ریلیف نہیں دیا گیا۔
شہباز شریف سابق وزیر اعلیٰ پنجاب کے عہدے پر ایک بہترین منتظم کے طور پر مشہور ہوئے تھے اور کہا جاتا ہے کہ وہ ایک بہترین منتظم تو اب بھی ہیں مگر اب وزیر اعظم بن کر عوام میں وہ مقبولیت حاصل نہ کرسکے جب وہ سفاری سوٹ اور لانگ بوٹ پہن کر پانی میں اور صوبے بھر میں دن رات عوامی سطح پر نظر آیا کرتے تھے۔ اب تو حکمران اتنے مصروف ہیں کہ اپنے وزراء کو بھی وقت نہیں دے پا رہے۔
سیاسی تاریخ دیکھیں تو ملک کے عوام سے بہت دور رہ کر حکمرانی کرنے والے حکمران صرف ایسی سرکاری تقاریب میں شرکت کرتے آئے ہیں جہاں ان سے کوئی سوال نہ ہو، صرف سرکاری سطح پر ہمیشہ ہونے والی تعریف ہی تعریف ہوتی ہو۔ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کھلی کچہری میں عوام کی شکایتیں سنتے تھے اور خاص لوگوں سے ملنے سے زیادہ عوام میں جا کر ان سے ملتے اور خطاب بغیر پروٹوکول کر لیا کرتے تھے مگر اب حکمران ایسا نہیں کرتے۔سیاستدانوں کو میڈیا اس وقت اچھا لگتا ہے جب وہ اپوزیشن میں ہوتے ہیں۔
پی ٹی آئی حکومت میں بھی اس وقت کے حکمران آزاد میڈیا کو پسند نہیں کرتے تھے اور تنقیدی سوالات پوچھنے والے صحافیوں سے ملنا بھی گوارا نہیں کرتے تھے۔ وزیر اعظم شہباز شریف میں اخلاقی جرأت ضرور ہے کہ وہ قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور ایک نشست رکھنے والے اپوزیشن لیڈر کے پاس جا کر ضرور مل لیتے ہیں مگر ایوان اقتدار سے باہر صحافیوں سے نہیں ملتے۔
حکومت نے پٹرول انتہائی مہنگا ہونے کے بعد پہلے بائیک سواروں، رکشے والوں اور بائیکیا والوں کے لیے پٹرول پر دو ہزار روپے ماہانہ ریلیف دینے کا اعلان کیا تھا جس کے حصول کا طریقہ اتنا مشکل بنا دیا گیا ہے کہ لگتا ہے کہ حکومت کی کوشش ہے کہ لوگ آسانی سے یہ حکومتی ریلیف حاصل نہ کر سکیں اور اب بھی ہر دس روز میں دس لیٹر پٹرول پر ایک سو روپے فی لیٹر کی جس رعایت کا اعلان کیا گیا ہے وہ عام لوگوں تو کیا پڑھے لکھے لوگوں کے لیے بھی پیچیدہ ہے جس کو پٹرول پمپ مالکان نے بھی مسترد کر دیا تھا اور بعد میں حکومت نے سستا پٹرول دینے پر رضامند کیا۔ اس رعایت میں بھی گاڑی کی رجسٹریشن اور گاڑی کی ملکیت ظاہر کرنا ضروری ہے جب کہ ملک میں بہت بڑی تعداد میں گاڑیاں استعمال کرنے والوں کے نام پر نہیں ہیں۔
موجودہ حکومت سے قبل کی حکومتوں میں ملک میں سینئر سٹیزن افراد کے لیے سہولیات کا اعلان کیا گیا تھا۔ نادرا دفاتر میں یہ سہولت کسی حد تک موجود ہے مگر بینکوں بیرونی ہوائی سفر کرنے والوں اور قطاروں میں کھڑے رہ کر بل جمع کرانے یا معلومات، ٹکٹ کے آسان حصول کی سہولت اب بھی سینئر سٹیزنز کو حاصل نہیں ہے اور خاص طور پر ملکی ہوائی اڈوں پر عمرہ زائرین اور غیر ملکی سفر کے خواہش مند بزرگوں کو زگ زیگ قطاروں میں پریشان کیا جاتا ہے۔ ہوائی سفر اور پبلک ٹرانسپورٹ سے سفر میں سینئر سٹیزن کو کوئی سہولت حاصل نہیں جس کی وجہ سے بزرگ حضرات گھٹنوں کی تکلیف کے باعث چلنے میں دشواری کا سامنا کرنے والے خاص طور پر پریشان ہیں۔
پاکستان ریلوے میں ستر سال سے زائد عمر کے بزرگوں کو کرائے میں نصف اور 75 سال عمر والے بزرگوں کو ٹرینوں میں مفت سفر کی سہولت حاصل ہے مگر یہ سہولت تمام ٹرینوں میں نہیں مخصوص ٹرینوں میں دی جاتی ہے مگر یہ رعایت صرف اکنامی کلاس کے لیے ہے۔
اے سی اسٹینڈرڈ اور بزنس کلاس سفر میں سینئر سٹیزنز کے لیے یہ رعایت صرف پچیس فی صد رقم کی ادائیگی پر مل رہی ہے اور ستر سال سے زائد عمر کے بزرگوں کو اے سی کوچز میں 75 فی صد کرایہ دے کر سفر کی سہولت ملی ہوئی ہے اور حکام کے نزدیک ستر 75 سال کے بزرگوں کو شاید گرمی نہیں لگتی۔ ریلوے بکنگ کے موقع پر بھی بزرگوں کو سہولت حاصل ہے نہ ان کے لیے خصوصی کاؤنٹر موجود ہے اور انھیں بھی ٹوکن لینا پڑتا ہے۔
ملک میں بزرگوں کو اسپتالوں، بینکوں، بکنگ ریزرویشن میں اگر کہیں سہولت ہے تو اس کا حصول آسان نہیں۔ ملک میں 70-75 سال کی عمر تک خوش نصیب ہی پہنچتے ہیں اور حکومت ساٹھ سال کی عمر والوں کو بزرگ قرار دیتی ہے مگر ریلوے سفر میں انھیں سہولت حاصل نہیں۔ دن میں بزرگوں کے لیے قطار میں لگ کر نادرا دفاتر میں کھڑے رہ کر داخل ہو کر ہی سہولت ملتی ہے، باقی سرکاری جگہوں پر بزرگوں کے لیے سہولت حاصل کرنا آسان نہیں ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل