Loading
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنی تقریر کے دوران شرکا کے سامنے ایک پیجر دکھایا جس کے پیچھے حزب اللہ پر حملے کی داستان ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق لبنان میں 17 ستمبر 2024 کو حزب اللہ کے رہنماؤں کے زیر استعمال ہزاروں پیجر دھماکوں سے پھٹ گئے تھے جس میں 12 افراد جاں بحق اور 3 ہزار سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔
اس موقع پر نیتن یاہو نے حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی فوج کی کارروائیوں کا زکر بھی کیا اور اپنی ان کارروائیوں میں حزب اللہ کے سربراہ سمیت اعلیٰ رہنماؤں کو قتل کا بھرپور دفاع بھی کیا۔
https://www.facebook.com/RoyaNewsEnglish/videos/netanyahu-brought-a-pager-to-his-united-nations-speechyou-remember-the-beepers-r/1121681200193364/
پیجر دکھا کر اسرائیلی وزیراعظم نے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، اس میں مہارت اور جنگ میں اس کی افادیت بھی ظاہر کی اور حزب اللہ پر ایک گہرا طنز بھی کرتے ہوئے اسے دہشت گرد تنظیم قرار دیا۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو نے جس پیجر کو لہرا کر حزب اللہ کے خلاف کارروائی کو قابل فخر قرار دیا، واقعے کے بعد کافی عرصے تک اس بات سے انکاری رہے تھے کہ پیجر کو بم بنانے میں اسرائیل کا کردار تھا۔
نیتن یاہو نے اسی خطاب میں اسٹارلنک ڈیوائس لہراتے ہوئے ایرانی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایران رجیم آپ کو آزادی اظہار رائے سے روکتی ہے، اس ڈیوائس سے انٹرنیٹ تک آسان اور محفوظ رسائی اور اظہارِ رائے کی آزادی مل سکتی ہے۔
@israel.hayom.engl
Prime Minister Benjamin Netanyahu held up an Elon Musk Starlink device from the podium of the UN General Assembly, highlighting its role in giving Iranians internet access when the regime shuts down communications. Netanyahu displayed the device during his address as he spoke about Iran and the Iranian people.
♬ original sound - Israel Hayom English
انھوں نے یہ ڈیوائس اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر کے پاس چھوڑنے کی بات بھی کی تاکہ ان کے بقول مستقبل میں ایران سے منحرف ہونے والے افراد سوشل میڈیا پر آزادانہ طور پر اپنی بات بیان کرسکیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل