Loading
بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر اجین میں تاریخی شاہی مسجد کو انہدام سے بچانے کے لیے سیکڑوں مسلمان مسجد کے اندر جمع ہوگئے پولیس کی بھاری نفری، ریپڈ ایکشن فورس اور بلڈوزر کی موجودگی میں مجوزہ کارروائی روک دی گئی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق 2028 کے سنگھستھ کمبھ میلے سے قبل سڑک چوڑی کرنے کے منصوبے کے تحت شاہی مسجد کو جزوی طور پر منہدم کرنے کے لیے نشان زد کیا گیا ہے۔ گزشتہ دو ہفتوں سے مسلمان باری باری مسجد میں موجود ہیں اور پانچوں وقت کی نمازیں ادا کررہے ہیں۔
مسجد کے اندر احتجاج میں شریک افراد کے مطابق گزشتہ رات پولیس کی نفری بڑھائی گئی، ریپڈ ایکشن فورس تعینات کی گئی اور بلڈوزر بھی پہنچائے گئے تاہم بڑی تعداد میں لوگوں کی موجودگی کے باعث کارروائی روک دی گئی۔ مسجد کی حفاظت کے لیے 11 رکنی نمائندہ کمیٹی بھی قائم کردی گئی ہے۔
مقامی عالم دین مفتی جنید نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ شاہی مسجد کے بعد مزید 28 مساجد بھی سڑک کی توسیع اور شہری منصوبہ بندی کی زد میں آسکتی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسجد کے انہدام کے خلاف سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا گیا ہے، جبکہ انتظامیہ کے مطابق ہائی کورٹ نے انہدام روکنے کی درخواست مسترد کردی تھی۔
رپورٹ کے مطابق مسجد کے اطراف پولیس نے بیریکیڈز لگا رکھے ہیں، جبکہ ظہر کی نماز کے بعد کم از کم ایک ہزار افراد مسجد کے اندر موجود تھے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ مسجد کی حفاظت کے لیے مسلسل وہاں موجود رہیں گے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل