Loading
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے صوبے کا بنیادی مسئلہ پسماندگی نہیں بلکہ غلط بیانیہ ہے، بلوچستان کی درست تاریخ بیان نہیں کی جاتی، حقائق اور تصور میں فرق سمجھنے کی ضرورت ہے، پسماندگی پاکستان کے ہر صوبے میں موجود ہے۔
نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی میں شرکا سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 5 ریاست سے غیر مشروط وفاداری کا درس دیتا ہے، پسماندگی کی بنیاد پر ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے کی بات نہیں کی جاتی ۔ انہوں نے واضح کیا بلوچستان کو توڑنے کا خواب کبھی پورا نہیں ہوسکتا جبکہ ہتھیار اٹھانے والوں سے مذاکرات نہیں ہوسکتے تاہم سیاسی لوگوں سے مذاکرات کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔
وزیراعلیٰ نے نوجوانوں اور ریاست کے درمیان فاصلے کم کرنے کے لیے نوجوانوں کو سننے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے زمینی حقائق، مقامی حالات اور عوامی ضروریات کو پالیسی سازی میں مدنظر رکھنا ہوگا۔
سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے پاکستان سے الحاق کے تاریخی حقائق کو درست تناظر میں دیکھنا ہوگا خان آف قلات نے اپنی کتاب میں بلوچستان کا الحاق رضامندی سے ہونے کا ذکر کیا، بلوچستان کی تاریخ سمجھنے کے لیے اصل ماخذ کا مطالعہ ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بعض بیوروکریٹس پنجاب سے بلوچستان آنا پسند نہیں کرتے، اس لیے افسران کو گراؤنڈ پر جاکر حالات کا مشاہدہ کرنا چاہیے تاکہ انہیں صوبے کے حقیقی مسائل اور زمینی صورتحال کا درست علم ہوسکے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل