Loading
پشاور ہائیکورٹ میں پولیس کی جانب سے اسلحہ فیکٹری سے اسلحہ ضبط کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی، چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے محکمہ داخلہ خیبر پختونخوا سے بھی رپورٹ طلب کرلی۔
سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ تھانہ یکہ توت کی حدود میں درخواست گزار کی اسلحہ فیکٹری قائم ہے، جہاں پولیس نے غیر قانونی چھاپہ مار کر اسلحہ قبضے میں لیا۔
وکیل کے مطابق پولیس نے فیکٹری سے ایک لاکھ 50 ہزار کارتوس، 26 ایس ایم جی، 7 عدد 308 بور رائفلز، 11 ایم فور، 2 ایم 16 اور دیگر قیمتی اسلحہ قبضے میں لیا۔
درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی احکامات کے باوجود اس کے لائسنس کی تصدیق نہیں کی جاسکی۔
چیف جسٹس نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ اس کیس میں اب تک کیا کارروائی کی گئی ہے؟ تفتیشی افسر نے بتایا کہ کیس دو ماہ قبل ان کے حوالے کیا گیا، مزید وقت درکار ہے۔
چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے تفتیشی افسر کی کارکردگی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی کارکردگی سے خوش نہیں ہوں، دو ماہ میں لائسنس کی تصدیق تک نہیں کی گئی۔
عدالت نے تفتیشی افسر کو آج ہی تحقیقات کرکے رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کر دی جبکہ درخواست پر سماعت 19 اکتوبر تک ملتوی کردی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل