Tuesday, September 29, 2026
 

امریکا نے ایران کو ہتھیاروں میں معاونت پر 10 افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کردیں

 



امریکا نے ایران کے لیے مبینہ طور پر ہتھیاروں اور ان کے پرزہ جات کی خریداری میں معاونت کرنے کے الزام میں چین، ہانگ کانگ، ایران اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے 10 افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کردیں۔ خبر رساں ادارے رائٹرز اور ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ نے منگل کو اعلان کیا کہ پابندیوں کی زد میں آنے والوں میں چین میں مقیم ایرانی وزارتِ دفاع کا ایک نمائندہ اور مختلف کمپنیوں کے عہدیدار شامل ہیں۔ امریکی حکام کا الزام ہے کہ یہ افراد اور ادارے ایران کی وزارتِ دفاع کے لیے ہتھیاروں اور متعلقہ اجزا کی خریداری کے نیٹ ورک کا حصہ ہیں جس سے ایران کی عسکری صلاحیتوں کو برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بیان میں کہا کہ ان تمام افراد اور اداروں نے ایرانی دفاعی پروگرام کے لیے ہتھیاروں کے پرزہ جات کی خریداری میں معاونت کی ہے۔ بیان میں اس عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ امریکا اب ایران کو مادی، تکنیکی یا مالی معاونت فراہم کرنے والے نیٹ ورکس کو نشانہ بنانے اور ان کی سرگرمیاں روکنے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے بقول محکمہ خزانہ ایرانی حکومت کے معاونین کی نشاندہی کرکے انہیں نظام سے دور اور الگ تھلگ کرنے کے لیے اقدامات کرتا رہے گا۔ یہ پابندیاں ایک ایسے وقت میں عائد کی گئی ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں تاہم دونوں ممالک کے درمیان اختلافات برقرار ہیں۔ واضح رہے کہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کی مہم کے تحت اس سے قبل بھی ایرانی عسکری پروگرام سے منسلک افراد اور کمپنیوں کو پابندیوں کا نشانہ بنایا جاچکا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل