Loading
یورپی یونین نے امریکا کی جانب سے ڈیزل کی برآمدات پر ممکنہ پابندی کی دھمکی کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی پابندی کسی کے مفاد میں نہیں اور اس سے امریکا اور یورپ کے باہمی اعتماد کو نقصان پہنچے گا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی انتظامیہ نے فرانس اور جرمنی سمیت یورپی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی ہنگامی ڈیزل ذخائر میں سے مزید ایندھن مارکیٹ میں لائیں تاکہ عالمی سطح پر بڑھتی قیمتوں کو قابو کیا جاسکے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی یونین کو دھمکی دی تھی ایسا نہ کرنے پر امریکا ڈیزل کی برآمدات پر پابندی عائد کرتے ہوئے اسے مکمل بند یا نہایت محدود کرنے پر غور کرسکتا ہے۔
جس پر ردعمل دیتے ہوئے یورپی کمیشن کی ترجمان انا کائسا اٹکونن نے کہا کہ یورپی یونین ڈیزل برآمدات پر کسی بھی پابندی کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے۔ ایسی کوئی پابندی کسی کے لیے فائدہ مند نہیں ہوگی۔
دوسری جانب یورپی ممالک نے بحران کے حل کے لیے عالمی توانائی ایجنسی (IEA) کے ساتھ مل کر ذخائر جاری کرنے پر غور شروع کردیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق یورپی یونین میں فرانس کی جانب سے 5 کروڑ بیرل ڈیزل ذخائر جاری کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا ہے جبکہ عالمی توانائی ایجنسی (IEA) کے رکن ممالک مزید 5 کروڑ بیرل خام تیل مارکیٹ میں لاسکتے ہیں۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطے کے بعد جی7 ممالک کے رہنماؤں کا ویڈیو اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے جس میں خام تیل اور ریفائنڈ مصنوعات کی عالمی منڈی میں صورتحال پر بات ہوگی۔
واضح رہے کہ ایران نے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے جنگ مسلط کیے جانے پر مارچ سے آبنائے ہرمز کو بند کر رکھا ہے جس سے عالمی سطح پر پیٹرول، ڈیزل اور گیس کی قلت پیدا ہوگئی ہے اور ایندھن کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ دنیا کو مہنگائی کے سیلاب کا سامنا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل