Wednesday, October 07, 2026
 

پاکستان کیتھولک بشپز کانفرنس نے مسیحی شادی ایکٹ 1872 کا جامع اور تفصیلی جائزہ شروع کردیا

 



پاکستان کیتھولک بشپز کانفرنس نے کیتھولک آرچ ڈائیوسس آف کراچی کے ذریعے مسیحی شادی ایکٹ 1872 کا جامع اور تفصیلی جائزہ شروع کر دیا ہے۔ آرچ بشپ آف کراچی بینی ماریو ٹراواس، کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق اس مقصد کے لیے کیتھولک آرچ ڈائیوسس آف کراچی میں ایک خصوصی کمیٹی قائم کی گئی ہے جو موجودہ قانون کا مختلف قانونی، آئینی اور کلیسائی پہلوؤں سے جائزہ لے رہی ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی کی توجہ بالخصوص مذہبی آزادی، مسیحی شادی کی مذہبی و مقدس حیثیت، مختلف مسیحی فرقوں کی شناخت، کیتھولک چرچ کی کلیسائی خودمختاری اور موجودہ دور کی قانونی و عملی ضروریات پر مرکوز ہے۔ چرچ کے اندر تفصیلی مشاورت اور جائزے کے بعد کمیٹی اپنی تجاویز، سفارشات اور مجوزہ ترامیم مرتب کر کے پاکستان کیتھولک بشپز کانفرنس کے سامنے پیش کرے گی۔ بعد ازاں پاکستان کیتھولک بشپز کانفرنس اپنی سفارشات وفاقی و صوبائی حکومتوں اور دیگر متعلقہ حکام کے سامنے غور و خوض کے لیے پیش کرے گی تاکہ پاکستان میں مسیحی شادی کے حوالے سے ایک ایسا جامع قانونی فریم ورک تشکیل دیا جا سکے جو آئینی تقاضوں، مذہبی آزادی اور موجودہ دور کی عملی ضروریات سے ہم آہنگ ہو۔ آرچ بشپ بینی ماریو ٹراواس نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ کیتھولک چرچ حکومت، قانون ساز اداروں، قانونی ماہرین اور تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ تعمیری، بامقصد اور مثبت مکالمے کے ذریعے اس اہم معاملے کو آگے بڑھائے گا۔ اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ اس جائزے کا بنیادی مقصد پاکستان میں مسیحی شادی کے لیے ایک ایسا منصفانہ، واضح، آئینی اور مربوط قانونی نظام تشکیل دینا ہے جو مسیحی برادری کی مذہبی آزادی، شادی کی مذہبی حیثیت اور چرچ کی کلیسائی ضروریات کو مؤثر انداز میں تحفظ فراہم کرے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل