Wednesday, October 07, 2026
 

سندھ میں فلور ملز کو 15 اکتوبر سے سرکاری گندم رعایتی نرخ پر جاری کرنے کی منظوری

 



سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے صوبائی حکومت کی جانب سے آٹے کی قیمتوں میں استحکام، مارکیٹ میں دستیابی یقینی بنانے اور صارفین کو ریلیف فراہم کرنے کی کوششوں کے تحت 15 اکتوبر 2026 سے سرکاری گندم 100 کلوگرام کی بوری 12,500 روپے کی رعایتی اجرا قیمت پر جاری کرنے کی منظوری دے دی۔ یہ فیصلہ وزیراعلیٰ ہاؤس میں محکمہ خوراک کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا گیا۔ اجلاس میں صوبائی وزرا مکیش کمار چاؤلہ، جام خان شورو اور مخدوم محبوب زمان، مشیر گیان چند اسرا نی، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، وزیراعلیٰ کے سیکریٹری آصف جمیل، سیکریٹری خوراک غلام عباس نائچ اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ صوبے میں گندم کے ذخیرے کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے محکمہ خوراک کو 15 اکتوبر سے گندم کا اجرا شروع کرنے اور مارکیٹ کے رجحانات پر کڑی نظر رکھنے کی ہدایت کی تاکہ حکومتی مداخلت کا فائدہ آٹے کی قیمتوں میں کمی کی صورت میں صارفین تک منتقل ہو۔ اجلاس کے دوران محکمہ خوراک نے رواں سال دستیاب گندم کے ذخیرے اور گزشتہ سال کی تقسیم کے اعداد و شمار کا تقابلی جائزہ پیش کیا۔ وزیر خوراک مخدوم محبوب زمان نے کمیٹی کو بتایا کہ اس وقت صوبے کے مختلف اضلاع میں سرکاری ذخائر میں مجموعی طور پر 346,414 میٹرک ٹن گندم دستیاب ہے۔ وزیراعلیٰ کو مزید بتایا گیا کہ پاسکو سے 190,000 میٹرک ٹن اور درآمد شدہ گندم سے 300,000 میٹرک ٹن صوبائی ذخیرے میں شامل کیا جائے گا، جس کے بعد اجرا کے لیے دستیاب گندم کی مجموعی مقدار 836,414 میٹرک ٹن ہوجائے گی۔ بریفنگ کے مطابق کراچی ڈویژن میں اس وقت 135,948 میٹرک ٹن گندم موجود ہے، جو پاسکو اور درآمد شدہ ذخائر کی آمد کے بعد بڑھ کر 565,948 میٹرک ٹن ہوجائے گی۔ مزید برآں، پاسکو کے ذخائر سے حیدرآباد ریجن کے لیے 30,000 میٹرک ٹن جبکہ میرپورخاص اور شہید بینظیرآباد ریجنز کے لیے 60,000 میٹرک ٹن مختص کیے گئے ہیں۔اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ سال صوبے نے مارکیٹ میں 974,982 میٹرک ٹن گندم جاری کی تھی۔ پاسکو کے اضافی ذخائر اور درآمدی گندم کی کھیپ سے مارکیٹ میں رسد مضبوط ہونے اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کو محدود کرنے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ کراچی کی اوپن مارکیٹ میں گندم اس وقت تقریباً 13,200 روپے فی 100 کلوگرام کے حساب سے فروخت ہورہی ہے، جبکہ ریٹیل آٹے کی قیمت 165 سے 170 روپے فی کلوگرام کے درمیان ہے۔ یکم اکتوبر کو گندم 12,400 روپے فی 100 کلوگرام میں فروخت ہورہی تھی، جبکہ آٹے کی قیمت 160 سے 165 روپے فی کلوگرام کے درمیان تھی، جو قیمتوں میں مسلسل اضافے کے رجحان کی عکاسی کرتی ہے۔ گندم کی دستیابی، سبسڈی کے اثرات اور مارکیٹ کی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد وزیراعلیٰ نے 100 کلوگرام کی بوری 12,500 روپے کی قیمت پر گندم جاری کرنے کی منظوری دی اور ہدایت کی کہ اجرا کا عمل 15 اکتوبر 2026 سے شروع کیا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت کا بنیادی مقصد گندم کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنانا، قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنا اور آٹے کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے سے صارفین کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل