Loading
دن کی شروعات مناسب اور متوازن ناشتے سے ہو تو جسم کو ضروری توانائی اور غذائی اجزا حاصل ہوتے ہیں، تاہم ناشتے میں شامل کی جانے والی ہر غذا یکساں طور پر مفید نہیں ہوتی۔ بعض مقبول غذائیں ایسی ہیں جن میں شکر، غیر صحت بخش چکنائی یا ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹس کی مقدار زیادہ ہوسکتی ہے، اس لیے انہیں روزانہ ناشتے کا حصہ بنانے سے گریز بہتر سمجھا جاتا ہے۔
میٹھے سیریلز بھی اسی فہرست میں شامل ہیں۔ اگرچہ بہت سے لوگ انہیں ناشتے کے لیے آسان اور صحت بخش انتخاب سمجھتے ہیں، لیکن بازار میں دستیاب کئی سیریلز میں شکر کی مقدار زیادہ جبکہ غذائیت نسبتاً کم ہوتی ہے۔ صبح کے وقت ایسے سیریلز استعمال کرنے کے بجائے کم شکر والا دلیہ یا گھر میں تیار کیا گیا گرینولا بہتر متبادل ہوسکتا ہے، کیونکہ ان میں فائبر اور دیگر غذائی اجزا زیادہ حاصل کیے جاسکتے ہیں۔
ذائقہ دار دہی بھی بظاہر صحت مند انتخاب محسوس ہوتا ہے، لیکن مارکیٹ میں ملنے والے کئی فلیورڈ یوگرٹس میں اضافی شکر اور مصنوعی اجزا شامل ہوتے ہیں۔ ان کا زیادہ استعمال کیلوریز میں اضافے اور خون میں شکر کی سطح پر اثر ڈال سکتا ہے۔ سادہ دہی میں تازہ پھل یا تھوڑی مقدار میں شہد شامل کرکے اس کے پروٹین اور پروبائیوٹکس سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔
ناشتے میں سوسیج جیسے پروسیسڈ گوشت کا استعمال بھی عام ہے، خاص طور پر اس وقت جب لوگ فوری طور پر تیار ہونے والی غذا کو ترجیح دیتے ہیں۔ تاہم اس طرح کے گوشت میں سوڈیم، چکنائی اور پریزرویٹو کی مقدار زیادہ ہوسکتی ہے۔ پروسیسڈ گوشت کا زیادہ استعمال صحت کے مختلف مسائل کے خطرے سے منسلک کیا گیا ہے۔ اس کے مقابلے میں انڈے یا اسموکڈ سالمن جیسی غذائیں پروٹین کے متبادل ذرائع ہوسکتی ہیں۔
پھلوں کے نام پر دستیاب مشروبات کو بھی احتیاط سے استعمال کرنا چاہیے۔ بعض مصنوعی یا پیک شدہ فروٹ ڈرنکس میں پھلوں کا قدرتی فائبر کم یا ختم کردیا جاتا ہے اور شکر شامل کی جاتی ہے، جس سے خون میں شکر کی سطح تیزی سے بڑھ سکتی ہے۔ بہتر انتخاب تازہ پھل کھانا یا اضافی چینی کے بغیر گھر میں تازہ جوس تیار کرنا ہے۔
یوں ناشتے میں زیادہ شکر اور زیادہ پراسیس شدہ غذاؤں کے بجائے کم پروسیس شدہ اور غذائیت سے بھرپور چیزوں کو ترجیح دینا متوازن غذا اور دن بھر توانائی برقرار رکھنے میں مددگار ہوسکتا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل