Wednesday, October 07, 2026
 

ہائی جیکر معاون پائلٹ کو عمان کے بعد مراکش میں بھی پرواز سے روکدیا گیا تھا

 



اسرائیل جانے والی فلائی دبئی کی پرواز کو مبینہ طور پر ہائی جیک کرنے اور طیارہ گرانے کی کوشش کرنے والے عمانی معاون پائلٹ کے بارے میں مزید اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ بھارتی نشریاتی ادارے ’این ڈی ٹی وی‘ کے مطابق مبینہ حملہ آور کو اس کے فضائی کیریئر کے دوران 2 مختلف ممالک میں 2 مرتبہ جہاز اُڑانے کی ذمہ داری سے روک دیا گیا تھا۔ اسرائیل جانے والی فلائی دبئی کی پرواز کو ہائی جیک کرنے کی کوشش پر گرفتار ھمام الحمامی کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ اُسے 2025 میں عمان ایئر نے انتہا پسند آن لائن مواد سے وابستگی اور اس حوالے سے پیدا ہونے والے خدشات کے باعث پرواز سے ہٹا دیا تھا۔ عمانی ایئرلائن میں جہاز اُڑانے پر پابندی کے بعد ھمام الحمامی مراکش منتقل ہوا جہاں اس نے رائل ایئر ماروک میں ملازمت کے لیے تربیت حاصل کی۔ رائل ایئر ماروک نے بھی تصدیق کی ہے کہ ھمام الحمامی نے 2025 میں تقریباً تین ماہ کی نظریاتی تربیت مکمل کی تھی تاہم تربیت کے بعد اس کی ملازمت کی درخواست منظور نہیں کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق جنوری 2026 میں اسے طیارے کے کاک پٹ میں جانے کی اجازت نہیں دی گئی تاہم ایئرلائن نے ھمام الحمام کو کاک پٹ میں داخلے نہ ہونے کے فیصلے کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔ یہ بات نہایت تشویشناک ہے کہ اس واقعے کے صرف ایک ماہ بعد فروری میں اسے فلائی دبئی میں معاون پائلٹ کی حیثیت سے ملازمت بھی مل گئی اور اسے پرواز پر جانے کی بھی اجازت دے دی گئی۔ صحافتی ادارے کی اس تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق بھرتی کیے گئے معاون پائلٹ کے کیریئر اور ماضی کے بارے میں معلومات حاصل نہ کرنا سنگین غفلت ہے جس سے طیارے کے مسافروں کی جانوں کو خطرہ لاحق ہوگیا تھا۔ یاد رہے کہ 30 ستمبر کو دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز میں معاون پائلٹ ھمام الحمامی نے جہاز اُڑانے والے ساتھی پائلٹ پر تیز دھار آلے سے حملہ کردیا تھا اور کاک پٹ کا کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس طیارے میں تقریباً 174 افراد سوار تھے۔ جہاز اُڑانے والے پائلٹ نے شدید زخمی ہونے کے باوجود کاک پٹ کا دروازہ کھولا جس کی وجہ مسافر اور دیگر عملہ کاک پٹ میں داخل ہوکر حملہ آور پائلٹ کو قابو کرنے میں کامیاب ہوئے۔ طیارے میں موجود اسرائیلی دندان ساز شوٹا موسیف نے زخمی پائلٹ کو طبی امداد فراہم کی جب کہ دیگر آف لوڈ پائلٹس نے طیارے کو سعودی عرب کے شہر تبوک کے ایئرپورٹ پر ہنگامی لینڈنگ کروائی۔ جہاں حملہ آور پائلٹ ھمام الحمامی کو حراست میں لے لیا اور ابتدائی تفتیش کے بعد متحدہ عرب امارات منتقل کیا گیا جہاں ممکنہ طور پر امریکی حکام نے بھی اس سے پوچھ گچھ کی جب کہ اسرائیلی سیکیورٹی حکام کے بھی موجود ہونے کی اطلاع ہیں۔ تفتیش میں ھمام الحمامی نے بتایا کہ وہ طیارے کو اسرائیل لے جاکر نائن الیون حملے کی طرح کسی عمارت سے ٹکرا دینا چاہتا تھا۔ اُس کے القاعدہ کے نظریات سے متاثر ہونے کے شواہد بھی ملے ہیں۔ واضح رہے کہ تاحال معاون پائلٹ ھمام الحمامی سے تفتیش کے بارے میں باضابطہ طور پر تفصیلات میڈیا کو فراہم نہیں کی گئی ہیں اور نہ ہی ملزم کو کسی عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل