Loading
شام نے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف فوجی کارروائی کا حصہ بننے پر غور شروع کردیا ہے جبکہ سعودی عرب اور دمشق کے درمیان شامی فوجی دستے یمن بھیجنے سے متعلق بات چیت جاری ہے۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کو 3 امریکی حکام نے بتایا کہ سعودی عرب اور شام حوثیوں کے خلاف جوابی کارروائی میں شامی فوج کی ممکنہ شرکت پر مذاکرات کر رہے ہیں۔
شامی صدر احمد الشرع کو یہ تجویز پیش کی گئی ہے اور وہ اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں تاہم تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
امریکی حکام کے مطابق اس معاملے میں بنیادی مشاورت سعودی عرب اور شام کے درمیان ہو رہی ہے.
تاہم دونوں ممالک نے ٹرمپ انتظامیہ کو بھی پیش رفت سے آگاہ کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ امریکا اصولی طور پر شامی فوجی دستوں کی یمن میں ممکنہ تعیناتی کی مخالفت نہیں کر رہا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل