Friday, October 09, 2026
 

بھارت میں 13 کروڑ ووٹرز کے نام خارج ہونے کا معاملہ بین الاقوامی میڈیا کی شہ سرخیوں میں آ گیا

 



بھارت میں ووٹر لسٹوں سے 13 کروڑ سے زائد نام نکالے جانے کا معاملہ عالمی میڈیا کی توجہ حاصل کرنے لگا اپوزیشن جماعتوں اور مظاہرین نے انتخابی عمل کی شفافیت پر سوال اٹھاتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کردیا۔ برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق ووٹر فہرستوں سے خارج کیے گئے ناموں کی تعداد میکسیکو کی مجموعی آبادی سے بھی زیادہ ہے۔ اس معاملے پر بھارت میں سیاسی کشیدگی بڑھ رہی ہے اور اپوزیشن رہنما راہول گاندھی سمیت مختلف حلقے احتجاج کررہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اپوزیشن اور ناقدین کو خدشہ ہے کہ ووٹر لسٹوں سے اتنی بڑی تعداد میں نام خارج ہونے سے بالخصوص مسلمان ووٹرز متاثر ہوسکتے ہیں جبکہ اس عمل سے حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو سیاسی فائدہ پہنچنے کا امکان بھی ظاہر کیا جارہا ہے۔ یہ الزامات انتخابی عمل میں شفافیت اور ووٹ کے حق سے متعلق بحث کو مزید تیز کررہے ہیں۔ اس معاملے پر روایتی اپوزیشن کے علاوہ نوجوانوں کی قیادت میں سرگرم کاکروچ جنتا پارٹی سے منسوب مظاہرین بھی چیف الیکشن کمشنر گنیش کمار سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ مظاہرین کا مؤقف ہے کہ ووٹر فہرستوں سے ناموں کا اخراج محض انتظامی معاملہ نہیں بلکہ شہریوں کے حقِ رائے دہی اور جمہوری نظام کے تحفظ کا سوال ہے۔ نئی دہلی، ممبئی اور بنگلورو میں احتجاج کے بعد 10 اکتوبر کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر مزید مظاہرے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل