Friday, October 09, 2026
 

بھونگ انٹرچینج منصوبے کے لیے فنڈز کی فراہمی، وزارت منصوبہ بندی اور فنانس کو ایک ماہ کی مہلت

 



اسلام آباد ہائیکورٹ نے ملتان سکھر موٹروے پر بھونگ انٹرچینج کی تعمیر سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق کرنے سے متعلق درخواست پر فنڈز کی ادائیگی کے لیے وزارت منصوبہ بندی اور وزارت خزانہ کو ایک ماہ کا وقت دے دیا۔ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل شائستہ تبسم کی جانب سے ایک ماہ کی مہلت دینے کی استدعا منظور کرلی گئی۔ درخواست گزار رئیس منیر کی جانب سے وکیل وقار رانا عدالت میں پیش ہوئے۔ دوران سماعت وزارت منصوبہ بندی کے افسر نے بتایا کہ عدالتی حکم کے بعد 10 کروڑ روپے جاری کردیے ہیں، باقی فنڈز کے لیے دوسرے کوارٹر تک وقت دیا جائے۔ اس پر درخواست گزار کے وکیل وقار رانا نے کہا کہ منصوبے کے لیے ابھی ایک ارب 70 کروڑ روپے درکار ہیں، کم از کم ٹھیکیدار کی ادائیگی تو جاری کردیں۔ ٹھیکیدار اپنی جیب سے 35 کروڑ روپے کا کام کرچکا ہے۔ یہ رقم این ایچ اے کو جمع کروا دیں تاکہ وہ عدالت کو آگاہ کرسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ حکام کی ذمہ داری ٹھیکیداروں کو ادائیگیاں کرنا ہے۔ جسٹس محمد آصف نے منصوبے کے لیے فنڈز جاری نہ کرنے پر ایک بار پھر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ہم یہاں سیاسی باتیں نہیں کررہے بلکہ قانون کی بات کررہے ہیں۔ آپ بتائیں کتنا وقت لگے گا، ہم وقت دے دیں گے۔ ٹھیکیدار کو پیسے نہیں دیں گے تو منصوبے پر کام کیسے ہوگا؟ وزارت منصوبہ بندی کے حکام نے بتایا کہ دوسرے کوارٹر تک فنڈز جاری کردیے جائیں گے۔ اس پر وکیل وقار رانا نے کہا کہ دوسرے کوارٹر کا مطلب ہے کہ مزید تین ماہ لگ جائیں گے، جبکہ پہلے ہی ایک سال گزر چکا ہے۔ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق یہ منصوبہ اب تک مکمل ہوجانا چاہیے تھا۔ درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ عدالت کو بار بار زحمت دی جارہی ہے، یہ آرٹیکل 187 کے تحت عمل درآمد کا کیس ہے۔ این ایچ اے، وزارت منصوبہ بندی اور وزارت خزانہ سمیت تمام متعلقہ حکام نے ایک سال میں منصوبہ مکمل کرنے کا کہا تھا، حالانکہ یہ منصوبہ اڑھائی سال پہلے مکمل ہوجانا چاہیے تھا۔ عدالت نے متعلقہ حکام کو فنڈز کی فراہمی کے لیے ایک ماہ کی مہلت دیتے ہوئے سماعت اگلے ماہ تک ملتوی کردی۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل