Loading
پشاور ہائیکورٹ میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور، پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر اور صوبائی وزراء سمیت دیگر کی 27 درخواستوں پر سماعت ہوئی۔ جسٹس اعجاز انور کی سربراہی میں تین رکنی لارجر بنچ نے درخواستوں پر سماعت کی۔
دوران سماعت علی زمان ایڈووکیٹ نے کہا کہ اس کیس میں جو وکیل تھے، وہ اب ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بن گئے ہیں، ہم اس کیس میں وکالت نامے جمع کرائیں گے۔
درخواست گزاروں کے وکیل محمد انعام یوسفزئی ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ صوبائی وزیر ڈاکٹر امجد کو رات کے وقت اٹھایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ان دنوں پھر ایسے حالات بن رہے ہیں کہ ان کے ارکان کو نامعلوم افراد اٹھا رہے ہیں۔ گزشتہ روز مردان سے ان کے ایک رکن کو اٹھایا گیا، جبکہ سوات سے صوبائی وزیر کو اٹھایا گیا۔
وکیل بشیر خان وزیر نے کہا کہ وہ چیف الیکشن کمشنر کے پاس بھی گئے، تاہم انہیں ابھی تک تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ آصف بابر ایڈووکیٹ نے بتایا کہ اسد قیصر نے چیف کمشنر کو درخواست دی تھی، لیکن انہیں مقدمات کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
پراسیکیوٹر اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ یہ معاملہ 26 دسمبر 2025 سے زیر التوا ہے، جبکہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل ثناء اللہ نے کہا کہ رپورٹ جمع ہو چکی ہے۔
جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیے کہ یہاں آپ کی حکومت ہے، آپ کی حکومت میں بھی ارکان کو اٹھایا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ زیادہ تر ارکان تو اسلام آباد میں بیٹھے ہیں، اسلام آباد تو محفوظ ہے، پشاور میں کیا کرتے ہیں۔ جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ اگر ان کیسز کو معمول کے ڈویژن بنچ میں لگایا جائے تو؟
محمد انعام یوسفزئی ایڈووکیٹ نے کہا کہ بالکل، ڈویژن بنچ ان کیسز کی سماعت کرے، ابھی تک ان کیسز پر عدالت کی کوئی مختلف رائے سامنے نہیں آئی۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ درخواست گزاروں کو عدالت آنے تک گرفتار یا ہراساں نہ کیا جائے۔
اس پر جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیے کہ کس کو حکم دیں، اسلام آباد کے لیے تو حکم جاری نہیں کر سکتے۔
وکیل درخواست گزار نے استدعا کی کہ عبوری ریلیف برقرار رکھا جائے۔ بشیر خان وزیر ایڈووکیٹ نے بتایا کہ عدالت نے حکم دیا تھا کہ تین دن میں چیف کمشنر اسلام آباد سے رجوع کیا جائے، جس پر انہوں نے تین دن کے اندر درخواستیں جمع کرائیں۔ عدالت نے حکم دیا تھا کہ تین دن کے اندر درخواست دینے والوں کے حکم امتناع میں توسیع ہوگی۔
عدالت نے درخواستوں پر مزید سماعت 20 اکتوبر تک ملتوی کرتے ہوئے ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر تیاری کرکے آئیں، مزید مہلت نہیں دی جائے گی اور کیسز کا فیصلہ کیا جائے گا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل