Loading
سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے میر پور ساکرو ٹھٹھہ میں 120 ایکڑ زمین کے تنازع پر فوری تعمیرات روکنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔
درخواست گزار موسی کاظمی نے زمین پر تعمیرات روکنے اور ہراساں کرنے کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ ان کے موکل اپنی زمین پر تعمیرات کر رہے ہیں، تاہم کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ انہیں تعمیراتی کاموں سے مسلسل روک رہا ہے، جب کہ مذکورہ زمین 1979 میں حکومت سندھ نے الاٹ کی تھی۔
عدالت نے مختار کار میر پور ساکرو اور ڈپٹی کمشنر ٹھٹھہ سے متنازع زمین کا اصل ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے فریقین کو آئندہ سماعت پر تفصیلات کے ساتھ پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔
دوران سماعت کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے وکیل بیرسٹر ولید خانزادہ نے کہا کہ 1956 کے ریکارڈ کے مطابق یہ زمین کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے پاس ہے۔ کراچی کو پانی کینجھر جھیل سے اسی راستے سے فراہم کیا جا رہا ہے، لہذا تعمیرات کا عمل پانی کی فراہمی میں رکاوٹ ہے۔
موسی کاظمی نامی شہری کی جانب سے دائر کردہ اس درخواست میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ زمین کی الاٹمنٹ قانونی طور پر ان کے نام کی گئی تھی، جبکہ دوسری جانب واٹر بورڈ نے سرکاری ریکارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے زمین پر اپنی ملکیت اور عوامی مفاد کا دعویٰ کیا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل