Loading
میٹنگ میں تو ابھی ٹائم ہے چلو اتنی دیر میں آئس کریم ہی کھا لیتے ہیں، میں نے یہ سوچا اور شاپ میں داخل ہو گیا، وہاں جب پرائس لسٹ دیکھی تو جیسا کہ بیشتر پاکستانی کرتے ہیں میں نے بھی برطانوی پاؤنڈز کو پاکستانی روپے میں کنورٹ کر کے دیکھا، پھرخود سے کہا کیا تم اتنے ہزار روپے کی آئس کریم کھاؤ گے فضول خرچ انسان باہر نکلو، مگر میں نے دل کی بات مانی کہ کون سا روز لندن آنا ہوتا ہے عیش کرو، آئس کریم لے کر میں پھر باہر آکر ایجویئر روڈ سے گزرتے ٹریفک کو دیکھتا رہا۔
ارے میں نے آپ کو بتایا نہیں کہ یہ لارڈز ٹیسٹ میں شکست والے دن کی بات تھی، اس علاقے میں عربیوں کی تعداد زیادہ ہے، پاکستانی سیاستدان بھی مقیم رہے، اس دوران اطراف میں نوجوانوں کی چھوٹی موٹی ’لائیو لڑائیاں‘ بھی دیکھیں، مجھے چند لمحے اپنے موبائل فون اور لیپ ٹاپ کی سیکیورٹی کا بھی خیال آیا لیکن پھر مطمئن ہو گیا کہ یہ کراچی نہیں لندن ہے، اسٹیڈیم سے میں براہ راست تقریب میں چلا گیا تھا جہاں ایوارڈ وصول کرنے کے بعد ڈنر کر ہی رہا تھا کہ ایک ملاقات کیلیے بلاوا آگیا، وہاں ایک عربک ریسٹورنٹ میں جب بات چیت شروع ہوئی تو جو انکشاف سامنے آیا اس نے مجھے سخت حیران کر دیا۔
اسی رات چند کھلاڑیوں سے ہوٹل میں ہی پوچھ گچھ ہوئی اور ان سے موبائل فونز بھی لے لیے گئے تھے، اس حوالے سے مزید تفصیلات تو بعد میں ہی سامنے آئیں گی، ممکن ہے مذکورہ پلیئرز نے کچھ غلط نہ کیا ہو، یہ سب بے گناہ ہوں، اس لیے فی الحال زیادہ بات کرنا مناسب نہیں ہو گا، جاری تحقیقات کا اونٹ دیکھتے ہیں کس کروٹ بیٹھتا ہے، البتہ ان کو اداروں کے ساتھ مکمل تعاون بھی کرنا چاہیے، اگر کوئی بے قصور ہے تو بغیر ثبوت کے کچھ نہیں ہو سکتا، البتہ معاملات کو دوسری جانب لے جانے سے فائدہ نہیں بلکہ صرف نقصان ہی ہو گا، ماضی میں بھی ایسی کوشش ہو چکی جس سے کچھ حاصل نہیں ہوا تھا۔
پاکستان میں فکسنگ کے کئی کیسز سامنے آ چکے، پلیئرز نقصانات سے بھی آگاہ ہیں لیکن پھر بھی بعض غلطیاں کر جاتے ہیں، ملک میں چند سال قبل تک سیروگیٹ ایڈورٹائزنگ عروج پر تھی، اس میں جوئے کی کمپنی نام میں معمولی سی تبدیلی کر کے تشہیر کرتی، جب کوئی ان کی ویب سائٹ پر جاتا تو بیٹنگ کے لنکس ملتے، پاکستان ٹیم کی کئی ہوم سیریز کی ٹائٹل اسپانسر بھی ایسی ہی کمپنیز رہیں، میڈیا کی نشاندہی کے باوجود کچھ نہیں ہوا، یہی کہا جاتا رہا کہ یہ الگ کمپنی ہے وہ bet جبکہ یہ bat ہے، باقی کا نام ایک جیسا ہونا اتفاق ہوگا۔
جب پی ایس ایل میں ایک پلیئر نے اس حوالے سے اعتراض اٹھایا اور لوگو پر اسٹیکر لگایا تب معاملہ زیادہ ابھرا، دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ اس سے قبل ایونٹ کے دیگر تمام میچز کھیل چکے تھے، اس سے گزشتہ سیزن میں بھی ایسی ہی کمپنی ٹیم کی اسپانسر تھی جس کا لوگو شرٹ پر لگا تھا، کئی برس پہلے ہی یہ بات لوگ جان چکے تھے کہ سیروگیٹ ایڈورٹائزنگ کیا ہے، پھر بھی سلسلہ چلتا رہا، پہلے ایک کمپنی کا راج تھا بعد میں کئی مزید کمپنیز بھی آ گئیں، زیادہ شور مچا تو حکومت بھی ایکٹیو ہوئی اور ایسی ایڈورٹائزنگ پر پابندی لگا دی،کرکٹ بورڈ نے تو اس پر مکمل عمل کیا لیکن دیگر مقامات پر یہ سلسلہ جاری رہا۔
کچھ عرصے قبل ہی کراچی میں ایک سابق کپتان کے بل بورڈز کئی سڑکوں پر لگے جس میں وہ ایسی ہی کمپنی کی تشہیر کر رہے تھے، ملکی کرکٹ کو جتنا نقصان فکسنگ کیسز نے پہنچایا شاید ہی کسی اور نے پہنچایا ہو، اب اس حوالے سے حقیقی زیرو ٹالیرنس اپنانے کا وقت آ چکا، قانون بنا لیں کہ ایک بار کسی کا ایسا جرم ثابت ہو گیا تو آئندہ وہ کھیل سے متعلق کسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے سکے گا، اس کو ڈیجیٹل میڈیا پر انٹرویوز لینے یا تبصروں کی بھی اجازت نہیں ہو گی، اسے کرکٹرز سے مکمل دور رکھا جائے گا، جب وہ خود غلطی کرتے ہوئے ملک کا نہیں سوچ رہا تو دوسروں کو اس کی روزی روٹی کا غم کرنے کی کیا ضرورت ہے، ویسے بھی اتنا پیسہ تو وہ کما ہی چکا ہو گا کہ باقی زندگی آرام سے گزار سکے، جب ایسا نہیں ہوتا تب ہی نوجوان کھلاڑیوں کو بھی ایسی غلطیاں کرنے کی ہمت ملتی ہے، ماضی میں غلط کام کرکے دندناتے پھرتے فلاں بھائی فلاں بھائی کو دیکھ کر وہ بھی سوچتے ہیں کہ ہم بھی بچ جائیں گے، اگر کرپٹ عناصر کو نشان عبرت بنانے کا سلسلہ شروع ہوا تو پھر دیکھیے کتنا فائدہ ہوتا ہے۔
اب بھی کھلاڑیوں کو اکثر آفرز ہوتی رہتی ہیں، پی سی بی کی مناسب رہنمائی کی وجہ سے اکثر رپورٹ بھی کر دیتے ہیں، اس وجہ سے ہی بچت ہو جاتی ہے، پلیئرز کو بھی سوچنا چاہیے کہ کوئی ایسے ہی مہنگے تحائف نہیں دے دیتا، کوئی کیوں اپنا سارا بزنس چھوڑ کر پاکستان ٹیم کے ہر میچ میں جاتا ہے؟ اس کا کچھ تو مقصد ہو گا،کہیں آپ کو استعمال تو نہیں کیا جا رہا؟ کہیں غیر محسوس طور پر اندرونی معلومات تو نہیں لے جاتیں، نگرانی کا عمل بھی سخت کرنے کی ضرورت ہے، کوئی بڑا بزنس مین کسی ڈومیسٹک کرکٹر کا دوست کیوں نہیں بنتا؟ اسے کیوں تحائف نہیں دیتا؟ ساتھ لے کر کیوں نہیں گھومتا؟ یہ بھی تو سوچیں۔
ساتھ پلیئرز کو سوشل میڈیا پر خواتین کے جو پیغامات ملتے ہیں ان پر بھی فورا دل نہ ہار جایا کریں، نہ خود انسٹاگرام پر ایسے میسیجز بھیجیں جو بعد میں اسکرین شاٹس بن کر وائرل ہوں، آج کل تو اے آئی سے آواز تک بدل جاتی ہے، لہذا فون پر بات کرتے ہوئے بھی محتاط رہیں، ہنی ٹریپس کی زد میں آ کر کئی کھلاڑی پھنس چکے ہیں، اس حوالے سے بھی انہیں رہنمائی فراہم کی جانی چاہیے، پی ایس ایل کی وجہ سے اب پاکستانی کرکٹرز اگر قومی ٹیم کی نمائندگی نہ بھی کریں تب بھی اچھی خاصی رقم کما لیتے ہیں،اس لیے بچپن میں جو پڑھا تھا کہ ’لالچ بری بلا ہے‘ اسے ہمیشہ یاد رکھیں اسی میں سب کی بھلائی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل