Monday, October 12, 2026
 

لاہور ہائیکورٹ بار کا خیبرپختونخوا میں گورنر راج کو سپریم کورٹ میں چلینج کرنے کا اعلان

 



لاہور ہائیکورٹ بار اور لاہور بار نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کردیا۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نفاذ کے حوالے سے لاہور ہائیکورٹ بار اور لاہور بار نے مذمت کرتے ہوئے اسے غیر آئینی اقدام قرار دیا اور سپریم کورٹ میں وفاقی حکومت کے فیصؒے کو چیلنج کرنے کا اعلان کیا۔ لاہور ہائیکورٹ بار اور لاہور بار کے مشترکہ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے سینیٹر حامد خان نے کہا کہ کل ان شاء اللہ ایکشن کمیٹی کا اجلاس کراچی میں ہوگا، آئندہ کا لائحہ عمل دیا جائے گا، بہادر سیاست دان سہیل آفریدی کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں، انہوں نے مثال قائم کی کہ عہدے اہمیت نہیں رکھتے۔ حامد خان نے کہا کہ سہیل آفریدی نے ثابت کیا کہ غیرت مند آفریدی موجود ہیں، سب یحییٰ آفریدی جیسے نہیں، جب تک عدلیہ اور آئین بحال نہیں ہوتے ہماری جدوجہد جاری رہے گی، خیبر پختونخوا میں صرف ایک حقیقی حکومت تھی، باقی سب جعلی اور فوجی حکومتیں ہیں۔  حامد خان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اور صدرکٹھ پتلی ہیں، ہمیں اصل مسئلے کی طرف جانا ہوگا۔ مشترکہ اجلاس خطاب کرتے ہوئے قانون دان رائے محمد علی نے کہا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی 2009 میں بھی غیر قانونی اور غیر آئینی تھی، ایمرجنسی آج بھی غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف صاحب 2008 میں یہ غیر قانونی اقدام تھا آج یہ کیسے آئین کے مطابق ہے، میں کے پی میں ایمرجنسی کی مذمت کرتا ہوں، دونوں بار ایسوسی ایشنز سے کہتا ہوں اس اقدام کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے۔ دریں اثنا اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے عوامی مینڈیٹ اور جمہوری اقدار پر حملہ قرار دیا ہے۔  بار کے سیکرٹری بیرسٹر قاسم نواز عباسی کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ انتظامی اختیارات کے ذریعے عوام کی مرضی کو دبانے کی ہر کوشش کی بھرپور مخالفت کی جائے گی۔ اعلامیے کے مطابق آئین کی بالادستی، پارلیمانی جمہوریت اور صوبائی خودمختاری ملکی نظام کی اساس ہیں، اور سیاسی مفادات کی خاطر وفاقی ڈھانچے کو نقصان پہنچانا ناقابل قبول ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ بار نے فوری طور پر جمہوریت کش اقدامات واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ متعلقہ حکام آئینی حدود کا احترام کریں، صوبائی خودمختاری کا تحفظ یقینی بنائیں اور قانون کی حکمرانی پر کوئی سمجھوتہ نہ کریں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل