Monday, October 12, 2026
 

تیل کی عالمی طلب کو دھچکا؛ اوپیک نے رواں برس کیلیے تخمینہ نمایاں طور پر کم کردیا

 



تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک نے 2026 کے دوران عالمی سطح پر خام تیل کی طلب میں اضافے کا تخمینہ نمایاں طور پر کم کرکے یومیہ 4 لاکھ بیرل کردیا ہے جبکہ سال کے آغاز میں یہ اندازہ 14 لاکھ بیرل یومیہ لگایا گیا تھا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اوپیک کے سیکریٹری جنرل ہیثم الغیص نے بتایا کہ تیل کی طلب میں اضافے کی رفتار توقعات سے کم رہنے کے باعث تنظیم نے اپنے تخمینے پر نظرثانی کی ہے۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ موجودہ سال میں طلب میں جو اضافہ مؤخر ہوگا اس کے 2027 میں سامنے آنے کی توقع ہے۔ اگلے سال مؤخر شدہ طلب پوری ہونے سے تیل کی کھپت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ ان کے بقول اس کا مطلب ہے کہ موجودہ سال میں تیل کی جتنی اضافی طلب متوقع تھی اس کا کچھ حصہ آئندہ سال منتقل ہوسکتا ہے۔ خیال رہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی طلب کے تخمینے میں کمی توانائی کی منڈیوں، تیل پیدا کرنے والے ممالک کی آمدنی اور پیداوار سے متعلق فیصلوں کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے۔ طلب میں اضافے کی رفتار کم رہنے سے قیمتوں پر دباؤ پڑ سکتا ہے تاہم قیمتوں کا انحصار رسد، جغرافیائی سیاسی صورت حال اور تیل کی ترسیل میں رکاوٹوں پر بھی ہوتا ہے۔ اوپیک کی نئی پیش گوئی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور تیل کی ترسیل کو لاحق خطرات عالمی منڈی کی توجہ کا مرکز ہیں۔ تنظیم کی جانب سے 2027 میں طلب بڑھنے کی توقع اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ موجودہ سال کی سست روی کو مستقل رجحان نہیں سمجھا جا رہا۔ واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیلی حملوں کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز بند کر رکھی ہے جبکہ حوثیوں نے باب المندب میں سعودی بحری ناکہ بندی کر رکھی ہے، سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک میں بھی آئل تنصیبات پر حملوں سے تیل کی ترسیل پہلے ہی قلت کا شکار ہے۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل