Monday, October 12, 2026
 

13 سال کا گند 3 میں صاف کریں گے، اب پالیسی جلال آباد نہیں اسلام آباد سے آئے گی، گونر کے پی

 



گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ امن خراب کرنے والوں کو نہیں چھوڑا جائے گا،  خیبرپختونخوا کے فیصلے اب اسلام آباد سے ہوں گے جلال آباد سے نہیں، 13 سالوں میں کرپشن کرنے والے گرفتار ہوں گے اور جن کے خلاف مقدمات ہیں انہیں بھی حراست میں لیا جائے گا۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق اپیکس کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ اجلاس میں پولیس اور سی ٹی ڈی کو وسائل فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ہم اپنی پولیس کے ساتھ کھڑے ہیں جو وسائل ہیں وہ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آئی جی چیف سیکرٹری سے کہا ہے کہ پولیس کی تنخواہیں بڑھائیں،  فورسز کے لیے شہداء کا پیکج بڑھائیں رہے ہیں۔ گورنر کے پی نے کہا کہ وہ زمانے چکے گئے وفاق سے لڑا جاتا تھا، صوبے میں اندھیرا گزر گیا اب اجالا ہوگا، ہمیں پالیسی اسلام آباد سے آئے گی جلال آباد سے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاق کی جانب سے صوبے کو جدید بکتر بند گاڑیاں دی جارہی تھیں مگر سابق حکومت نے وہ وصول نہیں کیں، وفاقی وزیر داخلہ نے بکتر بند گاڑیاں دی ہیں ہم نے وہ وصول کر لی ہیں کیونکہ ہم امن و امان پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ہمارا فوکس صوبے کی ترقی اور امن و امان کا قیام ہے، کسی توڑ پھوڑ کی اجازت نہیں کریں گے اور اگر کسی نے قانون ہاتھ میں لینے کی کوشش کی تو پھر اُسے کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔ گورنر کے پی نے کہا کہ ہمیں 13 سال کا گند صاف کرنا ہے اور کوشش ہوگی کہ اسے تین ماہ میں صاف کردیں، ہم نے وفاق سے مقدمہ لڑا لیکن گزشتہ حکومت صوبے کا مقدمہ نہیں لڑ سکی، ہمیں وسائل کا علم ہے دلیل اور دلائل سے مقدمہ لڑیں گے۔ انہوں نے سوال کیا کہ یہ کیسی جمہوریت تھی جہاں عوام کو تحفظ تک نہیں تھا، پی ٹی آئی نے دہشتگردی کو سپورٹ کیا۔ فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ جنہوں نے کرپشن کی ہے سب کا احتساب ہوگا، کرپشن کرنے والے گرفتار بھی ہوں گے سزائیں بھی ہوں گی، جن کے خلاف کیسز ہیں وہ مقدمات کا سامنا کریں گے۔ فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ لانگ مارچ والا کنٹینر بے یار و مددگار کھڑا ہے، وہ جس کا ہے آکر لے جائیں ورنہ ٹی ایم اے کو دے دیں گے۔ گورنر کے پی نے بتایا کہ ایپکس کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے غیر قانونی افغان مہاجرین کو ملک بدر کریں گے،  کسی کے پاس کوئی دستاویزات نہیں ہوں گے وہ ملک بدر ہوگا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل