Loading
یوٹیوبر رجب بٹ اور ان کی سابق اہلیہ ایمان فاطمہ کے درمیان طلاق کے بعد جاری قانونی تنازع میں ایک نئی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایمان فاطمہ نے لاہور کی گارڈین عدالت سے رجوع کرتے ہوئے اپنے جہیز کے سامان کی واپسی، بیٹے کے ماہانہ اخراجات اور اپنے ذاتی اخراجات کی ادائیگی کی درخواست دائر کردی ہے۔
درخواست گزار کے مطابق ان کے والدین نے شادی کے موقع پر 87 لاکھ 92 ہزار 500 روپے مالیت کا جہیز دیا تھا، جو ان کے بقول تاحال رجب بٹ کے خاندان کی جانب سے واپس نہیں کیا گیا۔ ایمان فاطمہ نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ انہیں جہیز کا سامان واپس دلایا جائے۔
درخواست میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا گیا ہے کہ رجب بٹ نے اپنے بیٹے کیون رجب بٹ کے اخراجات کے لیے مالی معاونت فراہم نہیں کی۔ ایمان فاطمہ نے نومبر 2025 سے بیٹے کے بالغ ہونے تک ماہانہ پانچ لاکھ روپے خرچ کی ادائیگی کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے اپنے ذاتی اخراجات کے لیے ماہانہ دو لاکھ روپے دینے کی استدعا بھی کی ہے۔
درخواست کے مطابق رجب بٹ سوشل میڈیا کی معروف شخصیت ہیں اور لاکھوں روپے کماتے ہیں، اس لیے وہ اپنے بیٹے کے اخراجات برداشت کرنے کی مالی استطاعت رکھتے ہیں۔ عدالت نے رجب بٹ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 23 اکتوبر تک جواب طلب کرلیا ہے۔
ایمان فاطمہ اور رجب بٹ کی شادی دسمبر 2024 میں ہوئی تھی، تاہم تقریباً ایک سال بعد 2025 میں دونوں کے درمیان علیحدگی ہوگئی۔ اس دوران ان کے ہاں بیٹے کیون رجب بٹ کی پیدائش ہوئی، لیکن بچے کی پیدائش کے باوجود دونوں کے درمیان صلح نہ ہوسکی۔
رجب بٹ ماضی میں متعدد مرتبہ یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ اپنی سابق اہلیہ سے دوبارہ تعلق قائم کرنے کے خواہش مند نہیں، جبکہ ان کے مطابق دونوں کے درمیان طلاق کا عمل بھی مکمل ہوچکا ہے۔ دوسری جانب، دونوں کے درمیان مختلف قانونی درخواستوں اور کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
درخواست میں طلاق کے نوٹس بھیجے جانے کا ذکر کیا گیا ہے۔ جہیز کی واپسی اور اخراجات کی ادائیگی سے متعلق یہ مطالبات فی الحال عدالت میں زیرِ سماعت ہیں، جبکہ رجب بٹ کا جواب سامنے آنے کے بعد معاملے کی مزید قانونی صورتِ حال واضح ہوگی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل