Wednesday, October 14, 2026
 

آبنائے ہرمز کی جنگ اور عالمی معیشت کا امتحان

 



آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنائے جانے، سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر حملوں، یمن میں حوثیوں اور سعودی فوجی اتحاد کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران کے خلاف ممکنہ امریکی و اسرائیلی کارروائیوں نے خطے کو ایسے دوراہے پر لاکھڑا کیا ہے جہاں ایک غلط فیصلہ کئی محاذوں پر تباہی کے نئے دروازے کھول سکتا ہے۔ جنگ شروع کرنا سیاسی قوت کا اظہار ہوسکتا ہے، لیکن اسے قابلِ قبول شرائط پر ختم کرنا کہیں زیادہ بڑی بصیرت کا تقاضا کرتا ہے۔ آبنائے ہرمز کی اہمیت کو محض ایک سمندری گزرگاہ کی حیثیت سے دیکھنا صورت حال کی سنگینی کو کم کرکے پیش کرنے کے مترادف ہوگا۔ خلیج فارس سے عالمی منڈیوں تک توانائی کی ترسیل کا یہ راستہ دنیا کی صنعتی معیشت، نقل و حمل، بجلی کی پیداوار اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ یہاں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافے نے ثابت کردیا ہے کہ جنگ کے اثرات اب فوجی اڈوں اور سرحدی علاقوں تک محدود نہیں رہے۔ سمندر میں عدم تحفظ پیدا ہونے سے جہازوں کے بیمے، مال برداری کے اخراجات، ترسیلی نظام اور عالمی منڈیوں میں قیمتوں کا توازن متاثر ہوتا ہے۔ کسی جہاز کو نقصان پہنچانے کا فوری اثر اس کے عملے اور مالکان پر پڑتا ہے، لیکن اس کا بالواسطہ بوجھ ان کروڑوں صارفین تک منتقل ہوتا ہے جو ہزاروں میل دور بیٹھے پٹرول، ڈیزل، بجلی اور روزمرہ استعمال کی اشیا خریدتے ہیں۔ اسی لیے آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر میں بحری سلامتی کا سوال کسی ایک ملک کے مفاد سے بلند ہوکر بین الاقوامی ذمے داری کی صورت اختیار کرچکا ہے۔ عالمی تجارت کا انحصار اس اصول پر ہے کہ بین الاقوامی سمندری راستے سیاسی اختلافات کا یرغمال نہیں بنیں گے، اگر ہر فریق اپنے مخالف پر دباؤ ڈالنے کے لیے تجارتی جہازوں کو خطرے میں ڈالنے لگے تو اس کا نتیجہ صرف ایک خطے کی معاشی ناکہ بندی نہیں ہوگا بلکہ عالمی رسد کے پورے نظام میں بے یقینی سرایت کرجائے گی۔ بحری جہاز رانی کے تحفظ کے لیے علاقائی ممالک اور بڑی طاقتوں کو مشترکہ ضابطوں، رابطہ کاری اور کشیدگی کم کرنے کے قابلِ عمل طریقوں پر اتفاق کرنا ہوگا۔ محض فوجی تعیناتی بڑھانے سے تجارتی راستوں کا تحفظ مستقل طور پر یقینی نہیں بنایا جاسکتا، کیونکہ ہر نئے حفاظتی انتظام کے جواب میں جوابی کارروائی کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔  سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر حملوں اور ریاض، دمام اور ظہران کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات نے خطرے کی ایک دوسری جہت نمایاں کی ہے۔ سعودی کابینہ کا یہ عزم کہ مملکت کی سلامتی اور بحیرہ احمر میں جہاز رانی کو خطرے سے دوچار نہیں ہونے دیا جائے گا، اس حقیقت کی اہمیت اجاگر کرتا ہے کہ توانائی کے مراکز پر حملہ محض تنصیبات کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہیں بلکہ عالمی معیشت کے اعصابی نظام کو متاثر کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ آرامکو جیسی بڑی تیل کمپنی کی تنصیبات یا انتظامی مراکز کو نشانہ بنانے سے پیدا ہونے والی بے یقینی عالمی منڈیوں میں فوری ردِعمل کو جنم دیتی ہے، خواہ نقصان محدود ہی کیوں نہ ہو۔ تاہم، کسی بھی حملے کے جواب میں کارروائی کرتے وقت دفاعی ضرورت اور انتقامی ردِعمل کے درمیان حد قائم رہنی چاہیے۔ عسکری جواب اگر تنازع کو مزید پھیلانے کا سبب بن جائے تو وقتی دباؤ دیرپا سلامتی میں تبدیل نہیں ہو پاتا۔حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کے سخت اعلان، یمن میں مختلف مقامات پر تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں اور سعودی علاقوں پر میزائل حملوں کی اطلاعات ایک ایسے تصادم کی تصویر پیش کرتی ہیں جس میں ہر کارروائی اگلی کارروائی کے لیے جواز بن رہی ہے۔ اس باہمی ردِعمل کا سب سے تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ اس کی قیمت فیصلہ سازوں کو یکساں طور پر ادا نہیں کرنا پڑتی۔ میزائل داغنے اور فضائی حملوں کے احکامات دینے والے مراکز سے دور آبادیاں، مزدور، مریض، بچے اور بنیادی سہولتوں پر انحصار کرنے والے شہری اکثر اس تباہی کی زد میں آتے ہیں جس کے فیصلے میں ان کا کوئی کردار نہیں ہوتا۔ حدیدہ میں ہلاکتوں کی اطلاعات اور شہریوں پر تباہ کن اثرات کے خدشات اسی انسانی بحران کی طرف توجہ دلاتے ہیں جسے عسکری کامیابیوں اور سیاسی بیانات کے شور میں نظرانداز کردیا جاتا ہے۔ اس بحران کو مزید پیچیدہ بنانے والا پہلو یہ ہے کہ سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان تصادم اب امریکا اور ایران کی وسیع تر کشمکش سے الگ ہوکر نہیں دیکھا جاسکتا۔ یمن کی جغرافیائی حیثیت، بحیرہ احمر اور باب المندب کے قریب اس کا محل ِ وقوع اور خلیجی توانائی کی ترسیل سے اس کا تعلق اسے علاقائی سیاست میں غیر معمولی اہمیت دیتے ہیں، اگر آبنائے ہرمز کے بعد باب المندب بھی عدم تحفظ کی لپیٹ میں آتا ہے تو عالمی تجارت کو بیک وقت دو اہم راستوں پر رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ سعودی عرب کے لیے یہ صورتِ حال محض دفاعی چیلنج نہیں بلکہ اقتصادی ترقی، غیر ملکی سرمایہ کاری اور عالمی کاروباری مرکز بننے کی کوششوں کے لیے بھی آزمائش ہے۔ حوثیوں کے حملوں اور سعودی جوابی کارروائیوں کا دائرہ بڑھنے سے یمن میں امن کی بحالی مزید دشوار ہوسکتی ہے۔اس تناظر میں ترک صدر رجب طیب اردوان کا سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے رابطہ اور سعودی عرب کے ساتھ تعاون کی یقین دہانی اہم سفارتی پیش رفت ہے۔ تاہم، کسی ملک کی حمایت کا اعلان اور تنازع کو حقیقتاً محدود کرنے کی حکمت عملی دو الگ امور ہیں۔ ترکیہ، سعودی عرب، ایران اور دوسرے علاقائی ممالک کو دیکھنا ہوگا کہ ان کے انفرادی سلامتی کے مفادات کس طرح کسی وسیع تر تصادم میں تبدیل ہونے سے بچ سکتے ہیں، اگر ہر ملک اپنے اتحادیوں کے دفاع کو دوسرے فریق کے خلاف غیر محدود کارروائی کا اجازت نامہ سمجھنے لگے تو علاقائی اتحاد امن کے ضامن بننے کے بجائے محاذ آرائی کو مزید گہرا کرسکتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سعودی عرب کی سلامتی کو یقینی بنانے کے ساتھ یمن میں جنگ بندی، انسانی امداد کی رسائی اور بحری راستوں کے تحفظ کے لیے بھی مربوط سفارتی کوششیں کی جائیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات اس بحران کا ایک اور اہم پہلو نمایاں کرتے ہیں۔ ایران کے خلاف ممکنہ نئی کارروائی، حوثیوں کے خلاف سخت اقدامات اور روس و چین کو تہران کی مدد کرنے پر بھاری قیمت چکانے کی تنبیہ کے ساتھ یہ سوال بھی موجود ہے کہ امریکی خارجہ پالیسی کے فیصلوں میں داخلی سیاست کس حد تک اثرانداز ہورہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی پر تبادلہ خیال ہوا، تاہم اس حوالے سے مختلف مؤقف بھی سامنے آئے ہیں۔ دوسری طرف فوجی تیاریوں کا سلسلہ جاری رہنے اور قطر کی ثالثی میں سفارتی رابطوں کی اطلاعات ظاہر کرتی ہیں کہ جنگ کے دوبارہ بھڑکنے کا خطرہ موجود ہے، لیکن مذاکرات کا راستہ بھی مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔جنگی کارروائیوں کے فیصلے انتخابی مہمات اور سیاسی ساکھ کے تابع ہونے لگیں تو امن کی گنجائش محدود ہوجاتی ہے۔ سیاست دانوں کو یہ ادراک ہونا چاہیے کہ انتخابی کامیابی عارضی ہوتی ہے، لیکن جنگ سے پیدا ہونے والی تباہی نسلوں تک معاشروں کا پیچھا کرتی ہے۔ امریکا میں نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران کے خلاف نئی کارروائی کے امکان پر بحث بھی اسی تناظر میں اہم ہے۔ دوسری جانب ایلون مسک کی جانب سے ریپبلکن امیدواروں کی انتخابی مہم کے لیے بھاری مالی عطیات کی اطلاعات امریکی سیاست میں دولت اور سیاسی اثرورسوخ کے باہمی تعلق پر سوال اٹھاتی ہیں۔درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والے پاکستان جیسے ممالک کے لیے اس صورتِ حال کے اثرات مزید گہرے ہوسکتے ہیں۔ خام تیل کی مہنگی خریداری سے زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ، درآمدی بل میں اضافہ اور روپے کی قدر پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔ اگر توانائی کی قیمتیں طویل عرصے تک بلند رہیں تو مہنگائی میں کمی کی کوششیں بھی دشوار ہوجاتی ہیں۔ اس لیے پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ عالمی منڈی کی قیمتوں پر نظر رکھنے کے ساتھ بیرونی معاشی جھٹکوں سے نمٹنے کی پیش بندی کرے۔ توانائی کی بچت، متبادل ذرائع کی ترقی، تیل کے ذخائر کی بہتر منصوبہ بندی، درآمدی معاہدوں میں تنوع اور سرکاری اخراجات کی ترجیحات پر نظرثانی ناگزیر ہے۔ سفارتی سطح پر پاکستان کو سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کی سلامتی، ایران کے ساتھ رابطوں اور امریکا کے ساتھ تعلقات میں توازن برقرار رکھتے ہوئے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ قومی مفاد، علاقائی استحکام اور معاشی تحفظ کو فیصلہ سازی کی بنیاد بنانا دانش مندی ہوگی۔مشرقِ وسطیٰ کو آج جس فیصلے کی ضرورت ہے، وہ کسی ایک طاقت کی برتری کا اعلان نہیں بلکہ اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ عسکری قوت ہر مسئلے کا مستقل حل نہیں۔ دنیا کو اب طاقت کے اظہار سے زیادہ دانش مندی کے استعمال کی ضرورت ہے، کیونکہ امن کی ناکامی کا نقصان کسی ایک دارالحکومت تک محدود نہیں رہتا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل