Wednesday, October 14, 2026
 

عشرہ ِمفتی محمودؒ (حصہ اول )

 



مفتی محمود رحمہ اللہ سے میری عقیدت کا بنیادی محرک ان کے ساتھ میرے مرشد و مربی باباجان شیخ المفسرین و محدثین حضرت مولانا حمداللہ جان ڈاگئی باباجی رحمہ اللہ کا قلبی تعلق تھا، بچپن سے مفتی محمودؒ کا ذکر خیر ان سے تسلسل کے ساتھ سنتے رہے، 1970 سے لے کر مفتی صاحب کی وفات تک کئی بار مفتی صاحبؒ کا ڈاگئی میں اور دو مرتبہ عبدالخیل پنیالہ میں باباجانؒ کے ساتھ نشستوں کی گفتگو دل و دماغ میں راسخ ہوچکی ہے مگر مفتی صاحبؒ کی وفات پر باباجانؒ کے بہتے آنسو اور ان کے مزار اقدس پر باباجانؒ کے ساتھ حاضری اور دوران سفر گفتگو نے میرے دل و دماغ کو ایسا مسخر کیا کہ اس دن سے مفتی محمودؒ کے سحر میں مبتلا ہوں، آج سیاسی لوگ مفادات اور مصلحتوں کے اسیر ہیں۔ اس لیے مفتی محمودؒ کی شان اقدس کے شایان شان قلبی تعلق بہت کم نظر آتا ہے، کیوں کہ گزرے ہوئے لوگوں سے جڑے رہنا مفادات کی سیاست کے اجزائے ترکیبی میں شامل ہی نہیں، مگر آج بھی بہت بڑے بڑے اکابرین، مفسرین و محدثین اور اولیاء اللہ کی آنکھیں مفتی محمودؒ کا ذکر کرتے ہوئے نم ہو جاتی ہیں، ان میں ایک جمعیت علمائے اسلام پنجاب کے امیر مولانا امجد خان صاحب ہیں، ان کی مفتی محمودؒ سے عقیدت و محبت کا انداز ہی منفرد ہے، وہ ہر سال مفتی صاحبؒ کی وفات پر لکھنا اور اخبارات میں اشاعت کو اپنے آپ پر فرض سمجھتے ہیں۔ پچھلے مہینے مولانا امجد خان بلا مقابلہ جمعیت علمائے اسلام پنجاب کے صوبائی امیر منتخب ہوئے تو انھوں نے پنجاب میں عشرہ مفتی محمودؒ منانے کا اعلان کیا جس کا اختتام آج 15 اکتوبر کو ملتان میں مفتی محمودؒ کانفرنس پر ہوگا۔ عشرہ مفتی محمودؒ اور مفتی محمود کانفرنس آج مفتی محمودؒ پر لکھنے کا محرک بنا، تاکہ نسل نو اور خاص کر پنجاب کے نوجوان اور عاشقان رسول مقبول ﷺ اجلے کردار کے مالک اور تاریخ ساز شخصیت مولانا مفتی محمودؒ کے بارے میں کچھ جان سکیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان کی خاکی گود میں 6 ربیع الثانی 1337ھ بمطابق 9 جون 1919 کو جب مفکر اسلام حضرت مفتی محمودؒ نے آنکھ کھولی تو اس وقت کسی کو اس بات کا ادراک نہیں تھا کہ یہ ننھا وجود آگے چل کر برصغیر کی سیاست، فقہ، قانون سازی اور دینی مورچوں پر ایسے لاجواب ابواب رقم کرے گا جس کی کرنوں سے مستقبل کے افق بھی منور رہیں گے۔ ان کے والد گرامی ولی کامل حضرت مولانا خلیفہ محمد صدیق عالمِ باعمل اور شریعت مطہرہ سے مزئین طریقت کے علمبردار تھے، جن کے فیضانِ نظر اور روحانی تربیت نے مفتی محمودؒ کو گوہر نایاب اور کندن بنا دیا۔ چھ برس کی عمر میں پنیالہ کے مڈل اسکول میں داخلے کے بعد 1933میں مڈل کا امتحان اعلیٰ نمبروں سے پاس کیا اور 1936 میں اعلیٰ دینی تعلیم کے لیے دارالعلوم دیوبند تشریف لے گئے، جہاں سے آپ نے حصول علوم شریعہ کی ابتداء کی، وہ حضرت شیخ الہندؒ اور علامہ انور شاہ کشمیریؒ جیسی جلیل القدر شخصیات کے فیوض و برکات کا مرکز تھا۔ آپ نے یہیں سے اپنے دور کے بلند پایہ اساطینِ فن سے زانوئے تلمذ طے کیا، اپنی خداداد ذہانت اور محنتِ شاقہ کی بدولت علم و فضل کی دنیا میں امتیازی شان پیدا کی۔ دارالعلوم دیوبند کے بعد آپ کا یہ مبارک سفر روحانیت کے مرکز خانقاہ رائے پور تک پہنچا، جہاں عارفِ باللہ حضرت مولانا عبد القادر رائے پوریؒ کی صحبتِ باکمال نے آپ کے باطن کو منور کیا اور علم کے ساتھ تقویٰ و للہیت کا ایسا امتزاج پیدا کیا جو آپ کی پوری زندگی کا طرۂ امتیاز رہا۔ خانقاہ رائے پور کی روحانی چھائوں سے نکل کر آپ مدرسہ شاہی مرادآباد تشریف لائے جو علمِ حدیث اور فقہ حنفی کا ایک مستحکم قلعہ مانا جاتا تھا۔ مفتی صاحبؒ نے یہاں تدریس کے فرائض انجام دیتے ہوئے طلبہ کو علومِ نبوی سے سیراب کیا اور مرادآباد کے علمی حلقوں میں اپنی ذہانت اور تدریسی عظمت کا لوہا منوایا۔ مرادآباد کے بعد آپ کا قافلۂ علم ہجرت کرکے پاکستان کے تاریخی شہر ملتان پہنچا، جہاں آپ نے مدرسہ قاسم العلوم ملتان کی بنیاد رکھی اور اس ادارے کو علومِ اسلامیہ کا ایک ایسا مینارِ نور بنا دیا جس کی روشنی سے پورے خطے کے مسلمانوں کے قلوب منور ہوگئے۔ ملتان کے بعد آپ نے ڈیرہ اسماعیل خان جیسے عظیم علمی مرکز کا رخ کیا جہاں آپ کا قیام ایک تاریخی باب کی حیثیت رکھتا ہے۔ آپ نے یہاں درسِ حدیث اور افتاء کے ذریعے ہزاروں تشنگانِ علم کو فیض پہنچایا اور آپ کی مجلسِ درس میں بیٹھنا گویا صحابہ کرام و تابعین کی علمی مجالس کی یاد تازہ کرنا تھا۔ آپ کی تدریسِ حدیث کا انداز انتہائی منفرد، محققانہ اور دل نشین تھا۔ جب آپ مسندِ تدریس پر جلوہ افروز ہو کر احادیثِ مبارکہ کے دروس ارشاد فرماتے تو الفاظ کا انتخاب، احادیث کے نکات، تراجمِ ابواب کی تشریح اور فقہی تطبیقات اتنے دلنشین پیرائے میں بیان ہوتے کہ طلبہ مبہوت رہ جاتے۔ آپ کی تدریس صرف روایات کا مجموعہ نہیں ہوتی تھی بلکہ درایات، فہمِ قرآن و سنت اور زندگی گزارنے کا عملی نمونہ ہوتی تھی۔ تدریسِ حدیث کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے آپ کو فقہ و افتاء میں جو ملکہ عطا فرمایا تھا، وہ تاریخِ اسلام کے گنے چنے فقہاء کی یاد دلاتا ہے۔ افتاء اور فتاویٰ نویسی آپ کا وہ خاص میدان تھا جہاں آپ کی عمیق نظر اور وسعتِ مطالعہ کا اعتراف تمام مکاتب فکر کے علماء کرام نے بھی کیا۔ آپ کی تحریر کردہ فقہی و شرعی فتاویٰ کی تعداد ہزاروں میں ہے جو محض روایتی فتوئوں کا مجموعہ نہیں ہیں بلکہ دورِ حاضر کے پیچیدہ، اقتصادی، معاشرتی اور سیاسی مسائل پر شریعتِ مطہرہ کی روشن دلیلوں کا احاطہ کرتے ہیں، جن میں حنفی فقہ کی جڑیں، اصولِ افتاء کی پختگی اور امتِ مسلمہ کے مسائل کو حل کرنے کی ان تھک لگن واضح طور پر دکھائی دیتی ہے۔ حضرت مفتی محمودؒ کی پوری زندگی دینِ متین کی خدمت اور امت کی رہنمائی کے لیے وقف تھی۔ آپ کا یہ بے لوث اور محنت طلب علمی و تدریسی سفر آج بھی اْمّتِ مسلمہ، بالخصوص علما اورطالبانِ علم کے لیے ہدایت کا سرچشمہ اور مشعلِ راہ ہے۔ آپ کی قائم کردہ علمی روایات اور تحریر کردہ فتاویٰ رہتی دنیا تک آنے والے طلبہ کو علم کے نور سے منور کرتے رہیں گے۔ مولانا مفتی محمودؒ کی حیاتِ مستعار کا سیاسی، ملی اور جہادی سفر بھی تدریسی خدمات کی طرح تابندہ و درخشاں ہے۔ 1937 میں جمعیت علماء ہند کی رکنیت سازی سے لے کر 1942کی تاریخی "ہندوستان چھوڑ دو" تحریک تک، انھوں نے برطانوی استعمار کے خلاف ہمیشہ صفِ اول کا مجاہدانہ اور قابل تقلید کردار ادا کیا۔ قیامِ پاکستان کے بعد جمعیت علماء اسلام پاکستان کی تنظیم نو ان کا ایک ایسا لازوال کارنامہ ہے جس کے بغیر اس جماعت کی تاریخ ادھوری ہے۔ قیامت تک جب بھی ناموسِ رسالت اور عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کی بات آئے گی تو مفکرِ اسلام حضرت مولانا مفتی محمودؒ کا نامِ نامی گرامی سرفہرست نظر آئے گا۔ عقیدۂ ختم نبوت اس امت کا ایمانی قلعہ ہے اور اس کی پاسبانی کے لیے انھوں نے اپنی پوری زندگی کو ڈھال بنا کر وقف کیا تھا۔ 1953 کی تحریکِ ختم نبوت میں صف اول جاندار کردار ادا کرتے ہوئے طویل قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ اس کے بعد جب 1974 میں قومی اسمبلی کے ایوان میں مسلمانان عالم اور پاکستان کے تمام مکاتب فکر کے علماء کی طرف سے مناظر و وکیل ختم نبوت بن کر تاریخ ساز کردار مفتی محمودؒ نے ہی ادا کیا۔ قومی اسمبلی میں تیرہ روز تک روزانہ آٹھ آٹھ گھنٹے جاری رہنے والی وہ طویل، مدلل اور تاریخی مناظرے کے دوران مفتی محمودؒ کی جرح تاریخِ عالم کا وہ زریں باب ہے جس کی نظیر نہیں ملتی۔  (جاری ہے)

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل