Wednesday, October 14, 2026
 

گورنر راج اور ایمرجنسی کے ممکنہ نتائج

 



خیبر پختو نخوا میں گورنر راج سمیت ایمرجنسی کی صورت میں جو کچھ ہوا وہ نوشتہ دیوار تھا۔کیونکہ وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کی حکومت کے درمیان جو سیاسی تناؤ تھا اس کا نتیجہ یہ ہی کچھ نکلنا تھا جو اب ہم اس صوبہ میں دیکھ رہے ہیں۔اگرچہ پی ٹی آئی کے سیاسی مخالفین خوش ہیں اور کچھ تو گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ پر یوم نجات سمیت مٹھائیاں بانٹ رہے ہیں اور پی ٹی آئی کے حامیوں میں فطری طور پرغصہ ہے۔ گورنر راج و ایمرجنسی جیسی صورتحال اور نفاذ کبھی بھی حالات کو بہتر بنانے میں معاون ثابت نہیں ہوتا بلکہ یہ جہاں ایک بڑی سیاسی تقسیم کو پیدا کرتا ہے وہیں اس کے اثرات محض صوبہ تک محدود نہیں رہتے بلکہ ہم اس کے اثرات کو قومی سیاست کے دائرے کار میں بھی دیکھتے ہیں۔ یہ جو وفاق کی جانب سے منطق دی جا رہی ہے کہ خیبر پختونخوا میں جو گورنر ر اج اور ایمرجنسی لگی ہے اس کی بنیادی وجہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کا دہشت گردی کے خاتمہ میں معاونت سے انکار اورعملی طور پر دہشت گردوں کی سہولت کاری ہے۔ یہاں تک کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کو ٹی ٹی پی کی بی ٹیم بھی قرار دیا گیا ہے اور اب صوبائی گورنر فیصل کریم کنڈی کے بقول گورنر راج اور ایمرجنسی کے بعد اب ہماری پالیسیاں کابل سے نہیں بلکہ اسلام آباد سے آئیں گی اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ صوبہ میں پی ٹی آئی کا ایک بڑا ووٹ بینک ہے اور اسے آج بھی صوبہ کی پاپولر جماعت سمجھا جاتا ہے اور پچھلے تیرہ برسوں سے مسلسل ان کی وہاں حکومت ہے۔اس لیے پی ٹی آئی تو اس گورنر راج اور ایمرجنسی کو اپنے خلاف سمجھتی ہے اور وہ سیاسی اور قانونی فورم پر اسے چیلنج کرے گی۔لیکن بات یہاں تک محدود نہیں ہے بلکہ پی ٹی آئی کے ساتھ صوبہ کی دیگر جماعتیں بھی جن میں جے یو آئی،جماعت اسلامی اور عوامی نیشنل پارٹی نے گورنر راج اور ایمرجنسی کی مخالفت کی ہے۔ وفاق نے گورنر راج اور ایمرجنسی کی صورت میں جو قیادت صوبہ کو بطور گورنر فیصل کریم کنڈی اور صوبائی سطح پر بارہ رکنی ایڈوائزی کونسل تشکیل دی ہے ، دیکھنا یہ ہے کہ اس کی کارکردگی کیا ہوتی ہے۔ان سے اگر یہ توقع کی جا رہی ہے کہ یہ سیاسی بندوبست صوبائی سطح پر دہشت گردی کا مقابلہ کر سکے گا ، یہ وقت ہی بتائے گا۔ ہمیں ماضی کی سیاسی تاریخ سے بھی سبق سیکھنا ہوگا کہ ماضی میں جو گورنر راج اور ایمرجنسی لگائی گئی اس سے ملک میں سیاسی اور جمہوری استحکام یا آئین اور قانون کی حکمرانی مضبوط ہوئی یا اس ایڈونچرز اور مہم جوئی کی سیاست نے نظام کو کمزور کیا تو یقینا جواب یہ ہی ہوگا کہ ہم نے اپنے نظام کو خود ہی نقصان پہنچایا ہے۔ ابھی تو وفاق کے بقول جو دہشت گردی ہورہی تھی اس میں پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت براہ راست ذمے دارتھی۔لیکن اب یہ اہم ذمے داری وفاق میں شامل مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی نے خود لے لی ہے۔گورنر فیصل کریم کنڈی کا تعلق براہ راست پیپلز پارٹی سے ہے تو پارٹی بھی دہشت گردی کے جو بھی نتائج آئیں گے، اس سے نمٹنا ہو گا۔ فیصل واڈا کی پریس کانفرنس نے بھی وفاقی حکومت کے لیے سیاسی سطح پر بہت سے سوالات اٹھائے ہیں ۔خیبر پختون خوا میں اب اقتدار ٹیکنو کریٹ کے پاس آگیا ہے۔ یہ بات کافی حد تک درست ہے کہ ایک ہی ملک میں دہشت گردی سے نمٹنے کی دو مختلف پالیسیاں نہیں چل سکیں گی۔لیکن یہ دو پالیسیاں کیسے بنیں اور اس کے کیا سیاسی محرکات تھے یا کیا ہماری داخلی پالیسیاں تھیں ان کا بھی عملی طور پر جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔اس معاملے میں پی ٹی آئی کی یک طرفہ اور جارحانہ پالیسی یا وفاق سے براہ راست ٹکراو بھی درست سطح کی پالیسی کے زمرے میں نہیں آتا تھا۔یہ سارے معاملات ایسے تھے جو وفاق اور صوبے کے درمیان مل بیٹھ کر طے کیے جاسکتے تھے اور اس گورنر راج اور ایمرجنسی سے بچا جاسکتا تھا۔ دوسری طرف یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ نیا صوبائی بندوبست اور وفاقی حکومت اپنے سیاسی مخالف پی ٹی آئی کو سیاسی طور پردیوار سے لگانا چاہتی ہے اور اسی بنیاد پر کچھ بڑی گرفتاریاں بھی ہوئی ہیں۔ کیا اس کا نتیجہ مزید سیاسی تقسیم کی صورت میں نظر آئے گا جو محاذ آرائی کو فروغ دے گا۔اسی طرح اب یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کیا حزب اختلاف متحدہ صورت میں کوئی حکمت عملی اختیار کرسکے گی۔یعنی پی ٹی آئی،جے یو آئی،جماعت اسلامی اور اے این پی مشترکہ حکمت عملی کے تحت آگے بڑھ سکیں گے۔کیونکہ ابھی تک یہ جماعتیں مشترکہ حکمت عملی کے تحت آگے نہیں بڑھ سکی ہیں اور اس کے امکانات بھی محدود نظر آتے ہیں۔ ایک مسئلہ پی ٹی آئی کے بحران کا بھی ہے اور اس کے داخلی بحران نے اس کی تنظیمی صلاحیت کو متاثر کیا ہے۔اس لیے یہ سمجھنا کہ وہ صوبائی سطح پر کوئی بڑی تحریک چلاسکیں گے وہ ممکن نہیں۔پی ٹی آئی کی نظریں مولانا فضل الرحمن سے جڑی ہوئی ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ مولانا فضل الرحمن کی مدد سے ہم بڑی تحریک چلاسکیں۔لیکن مولانا فضل الرحمن کافی سمجھ دار آدمی ہیں اور اپنے کارڈ کو کھیلنا خوب جانتے ہیں۔ویسے مولانا فضل الرحمن کی خواہش ہو سکتی ہے کہ پہلے پی ٹی آئی ان کو محمود خان اچکزئی کی جگہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نامزد کرے۔اگرچہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ خیبر پختون خوا میں پی ٹی آئی کے اقتدارکے خاتمہ کے بعد ان کی سیاسی طاقت کمزور ہوجائے گی۔یقینا اقتدار کی بہت سی سیاسی مجبوریاں ہوتی ہیں اور پارٹی ان کے گرد پھنس کر رہ جاتی ہے۔لیکن اب جب پی ٹی آئی کے پاس صوبہ میں اقتدار نہیں رہا تو ان کی اقتدار سے جڑی سیاسی مجبوریاں بھی ختم ہونگی اور ان کی مزاحمت کی شکلیں بھی بدل سکتی ہیں،گورنر راج اور ایمرجنسی کے بعد پی ٹی آئی کو سیاسی فائدہ ہوگا اور سمجھا جائے گا کہ ان کا عملی طور پر مینڈیٹ ختم کیا گیا ہے اور اس کا ردعمل ووٹروں کی سطح پر بھی دیکھنے کو ملے گا۔ اب جو گورنر راج اور ایمرجنسی کے بعد نیا سیٹ اپ آیا ہے اس کے پاس بھی وقت بہت کم ہے اور لوگ فوری طور پر تبدیلی دیکھنے کے خواہش مند ہیں۔ دہشت گردی سے نمٹنا آسان کام نہیں ہوگا اور اس میں ہمیں ریاست کی سطح پر مختلف نوعیت کے داخلی اور علاقائی چیلنجز ہیں۔اس لیے اب جو نیا بندوبست گورنر راج اور ایمرجنسی کا ہے اس میں دہشت گردی سے نمٹنے،امن وامان اور گورننس جیسے معاملات پر توجہ دینی ہوگی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل