Loading
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فورٹ ہڈ فوجی اڈے پر فائرنگ کرکے 13 فوجیوں کو ہلاک کرنے والے سابق فوجی ماہرِ نفسیات نضال حسن کی سزائے موت براہِ راست نشر کرنے کا منصوبہ ترک کردیا۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ اس سے قبل نضال حسن کی پھانسی کو آن لائن براہِ راست دکھانے کے حامی تھے۔
ان کا مؤقف تھا کہ ایسا منظر دنیا کے لیے تنبیہ بن سکتا ہے اور دہشت گردی میں ملوث افراد کو یہ پیغام دے سکتا ہے کہ امریکا ایسے جرائم سے کیسے نمٹتا ہے۔
تاہم امریکی صدر ٹرمپ کی نضال حسین کی سزائے موت براہ راست نشر کرنے کی اس تجویز کو دنیا بھر میں تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
نائب امریکی صدر جے ڈی وینس نے بھی اپنے صدر سے کھل کر اختلاف کیا اور اس تجویز پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ خود پھانسی کا منظر نہیں دیکھیں گے۔
امریکا کے 72 ریٹائرڈ جرنیلوں، ایڈمرلز اور دیگر اعلیٰ فوجی عہدیداروں نے خط کے ذریعے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ پھانسی کی براہِ راست نشریات کا منصوبہ منسوخ کیا جائے۔
جس کے بعد صدر ٹرمپ نے اب اپنا مؤقف تبدیل کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے نیک نیت اور مخلص لوگ کسی شخص کو مرتے ہوئے دیکھنا پسند نہیں کریں گے۔
امریکی صدر نے واضح کیا کہ سزائے موت پر اپنے مقررہ وقت پر عمل درآمد ہوگا لیکن اسے اب براہِ راست نشر نہیں کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ نضال حسن نے 5 نومبر 2009 کو ٹیکساس میں واقع فورٹ ہڈ فوجی اڈے پر فائرنگ کرکے 13 افراد کو ہلاک اور متعدد کو زخمی کردیا تھا۔
وہ امریکی فوج میں ماہرِ نفسیات تھے اور فوجی عدالت نے انھیں 2013 میں سزائے موت سنائی تھی۔ ان کی سزا پر عمل درآمد کا معاملہ طویل عرصے سے زیرِ بحث رہا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل