Loading
روسی فوج کے ایک 26 سالہ افسر نے علم بغاوت بلند کرتے ہوئے نہ صرف یوکرین کو اپنے ساتھی اہلکاروں کی معلومات فراہم کیں بلکہ محاذ جنگ چھوڑ کر یوکرین گیا اور پوٹن کے خلاف لڑنے والے جنگجوؤں میں شامل ہوگیا۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ لیفٹیننٹ لیو اسٹوپنیکوف روسی فوج میں مواصلاتی افسر تھے اور اس عہدے کی وجہ سے فوجیوں کی نقل و حرکت، جنگی منصوبوں، جاسوس ڈرونز اور نگرانی کے کیمروں سے متعلق حساس معلومات جانتے تھے۔
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ روسی افسر نے ان معلومات کو خفیہ طور پر یوکرینی انٹیلی جنس تک پہنچایا جس کی بنیاد پر کیے گئے یوکرینی میزائل حملے میں 68 روسی فوجی ہلاک اور 60 زخمی ہوگئے۔
اس حملے میں ہلاک ہونے والوں میں کرنل گوسین موسیایف بھی شامل تھے۔
جنگ نے سوچ بدل دی
لیفٹیننٹ لیو اسٹوپنیکوف نے بتایا کہ فروری 2022 میں یوکرین پر روسی حملے کے مناظر دیکھ کر وہ شدید پریشان ہوگئے تھے جس میں زیادہ تر نشانہ معصوم شہری بنے تھے اور یہ منٓاظر دیکھ کر وہ جنگ کے خلاف ہوگئے تھے۔
رپورٹ کے مطابق روسی افسر کی والدہ تاتیانا یانتسن نے فروری 2024 میں یوکرینی فوجی انٹیلی جنس سے رابطے میں بھی مدد فراہم کی۔ اس کے بعد خفیہ پیغامات کے ذریعے روسی فوجی معلومات پہنچانے اور فرار کا منصوبہ تیار کیا گیا۔
جولائی 2024 میں اسٹوپنیکوف رات کے وقت اپنی روسی فوجی یونٹ سے نکل کر یوکرینی مورچوں کی جانب روانہ ہوا۔ تقریباً 40 منٹ کے سفر کے بعد وہ یوکرینی فوجیوں تک پہنچ گیا۔
جہاں اس نے اپنی شناخت کی تصدیق کے لیے پہلے سے طے شدہ خفیہ جواب دیا اور اسے حراست میں لے لیا گیا۔
بعد ازاں وہ روسی رضاکار کور میں شامل ہوگیا، جو یوکرین کی جانب سے روسی حکومت کے خلاف لڑنے والے نسلی روسیوں پر مشتمل ہے۔ وہ اب وہاں مواصلاتی ماہر کے طور پر کام کرتا ہے۔
روس سے غداری یا حلف کی پاسداری؟
اسٹوپنیکوف کی اہلیہ لیزا نے اس پر روس اور اپنی ازدواجی زندگی سے غداری کا الزام عائد کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ صدر پیوٹن نے یوکرین پر حملہ کرکے آزادی اور آئینی نظام کے اصولوں کو پامال کیا۔
روسی افسر اسٹوپنیکوف کے مطابق اس نے فوجی اکیڈمی میں ملک کی آزادی، خودمختاری اور آئینی نظام کے تحفظ کا حلف اٹھایا تھا، اور وہ سمجھتا ہے کہ اس کے اقدامات اسی حلف کے مطابق تھے۔
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق اس کی کہانی روسی فوج کے اندر موجود ایسے افراد کے نیٹ ورک کی بھی نشاندہی کرتی ہے جو خفیہ طور پر یوکرین کو فوجی معلومات فراہم کرتے ہیں۔
تاہم 300 سے زائد روسی فوجیوں کی ہلاکت میں اس کے کردار سے متعلق اعدادوشمار رپورٹ میں بیان کردہ دعووں پر مبنی ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل